’قریشی نے مسلم امہ کا پول کھول دیا‘

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں لے کر جا رہے ہیں مگر وہاں پانچ مستقل اراکین میں سے کوئی بھی ملک پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

پاکستانی شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کے ساتھ مظفر آباد میں مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں اور کشمیروں کو خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کشمیریوں کو ’زمینی حقائق‘ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں (سیکیورٹی کونسل میں) آپ کے لیے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا۔ آپ کا کوئی وہاں منتظر نہیں ہے۔ یہ تو آپ کو ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا اور کوئی ساز گار ماحول نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے انڈیا کو بڑی منڈی سمجھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں لوگوں کے مفادات ہیں۔ وہاں ایک سو ارب ڈالر کی مارکیٹ ہے۔ اس خطے میں آپ نے نئی ری الائنمنٹ دیکھی ہے۔ بہت سے لوگوں نے وہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ویسے تو ہم امہ اور اسلام کی بات تو کرتے ہیں مگر امہ کے محافظوں نے وہاں بہت سی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ان کے وہاں مفادات ہیں۔

خیال رہے کہ عید کے روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفر آباد کی مسجد میں عید کی نماز کے بعد ایک ریلی نکالی گئی جس میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے۔

’آج بلاول صاحب یہاں تشریف لائے، ہم نے اکٹھے نماز عید ادا کی، ایک اچھا پیغام دنیا بھر میں گیا لیکن میں ان سے بھی یہی کہوں گا کہ سیاست کریں لیکن کشمیر کے پرچم میں ملغوف کر کے نہ کی جائے۔‘

مبصرین کا ماننا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی امہ کا مطلب سعودی عرب ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈین کمپنی ریلائنس کے 20 فیصد شیئرز خرید رہی ہے۔ ریلائنس دنیا میں خام تیل کو صاف کرنے کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مانک پائیاں مہاجرین کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سیکورٹی کونسل کے رکن نہیں، ہمیں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل کی ضرورت تھی۔ میں اس لیے چین گیا اور آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ میں چین کی طرف سے کشمیر کا مقدمہ سکیورٹی کونسل میں لڑنے کے لیے وکالت نامہ لے آیا ہوں۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا سمیت دیگر پاکستانی رہنماؤں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور عوامی اجتماعات اور پریس کانفرنسز سے خطاب کیے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس مسئلے پر ناکام نظر آتی ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کا وزیراعظم نہیں لڑے گا تو کون لڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں کے حقوق پر تاریخی حملہ ہوا ہے۔

’ہمارا مقابلہ ایک ایسے شخص سے ہے جو گجرات کا قصائی ہے، اب کشمیر کا قصائی بن گیا ہے۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگلے ماہ ستمبر میں وزیراعظم عمران خان آپ کا مقدمہ لڑنے اقوام متحدہ جا رہے ہیں۔

قریشی نے ملک سے باہر موجود ہر پاکستانی سے اپیل کی کہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی اقوام متحدہ میں جائیں تو وہ پاکستانی اقوام متحدہ کے باہر احتجاجاً موجود ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’اصولی، قانونی طور پر آپ کا مقدمہ بہت مضبوط ہے۔‘

’نیشنل سکیورٹی کونسل میں وزیراعظم عمران خان نے میری سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ہم ان معاہدوں کا جائزہ لیں گے۔‘

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کے جھنڈے تلے پاکستان کی سیاست نہیں کرنی چاہیے، کشمیر کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بھرپور کوشش اور جدوجہد جاری رکھے گا ’لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری کاوشیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گی جب تک دنیا بھر میں موجود پاکستانی اور کشمیری اس جدوجہد کے ہراول دستے میں شامل نہیں ہوتے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انڈیا کشمیریوں کی آہ و بکا پر اپنے کان بند کر لیتا ہے، منھ پھیر لیتا ہے۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 14 تاریخ کو مظفرآباد تشریف لا رہے ہیں اور وہ پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مسعود خان نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں اضافی فوج تعینات کر کے ’کشمیریوں کا قتل عام‘ شروع کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین