کشمیر پر حکم نہیں دے سکتے، انڈین سپریم کورٹ

انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے وہ کشمیر کے معاملے پر کوئی فوری حکم جاری نہیں کر سکتی۔

عدالت کے تین ججوں پر مشتمل بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے بعد وہاں لگائی جانے والے پابندیوں کو ہٹانے کے لیے دائر درخواست کو دو ہفتے بعد سماعت کے لیے لگانے کی ہدایت کی ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق مودی سرکار کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر سپریم کورٹ میں درخواست کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے تحسین پونے والا نے دائر کی ہے جس کی سماعت منگل کو جسٹس ارون مشرا کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے کی۔ 

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جموں و کشمیر میں کرفیو کے خاتمے اور رابطے کے ذرائع کو بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔

انڈیا کے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاست میں حالیہ کرفیو کا نفاذ سنہ 2016 کے طرز پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں سے بچنے کے لیے لگایا گیا ہے جس میں 44 افراد مارے گئے تھے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دو سال قبل اس وقت پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جب نوجوان کشمیری عسکریت پسند برہان وانی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ انڈین فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے۔

کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کے بنچ سے کہا کہ درخواست کو خارج کیا جائے کیونکہ حکومت کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر ر ہی ہے۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے درخواست گزار کے وکیل اور اٹارنی جنرل کا مؤقف سننے کے بعد معاملے میں فوری مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ججز نے کہا کہ وہ اس درخواست کو دو ہفتے بعد سنیں گے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سنہ 2016 میں بھی کشمیری علیحدگی پسندوں نے سرحد پار سے ملنے والی ہدایات پر لوگوں کو گلیوں میں تشدد کرنے کے لیے ابھارا۔

کے کے وینو گوپال نے کہا کہ ’حکومت اسی طرح کی پرتشدد صورتحال سے بچنے کے لیے کرفیو نافذ کیے ہوئے ہے۔‘

تحسین پونے والا نے اپنی درخواست میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزرائے اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو رہا کیے جانے کی بھی استدعا کی ہے۔

یاد رہے کہ مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس اور دیگر افراد نے بھی انڈین سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

متعلقہ مضامین