دہشت گرد کی پٹائی کی گئی

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی مسجد میں گھس کر فائرنگ کرنے والے 21 سالہ سفید فام حملہ آور کو عدالت میں پیش کر کے دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فلپ مانشاؤس نامی شخص کے چہرے اور گردن پر چوٹوں اور خراشوں کے نشانات تھے۔ مسجد پر حملے کے علاوہ اس پر اپنی سوتیلی بہن کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

سرکاری وکلا نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کو ایک ماہ کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت میں داخل ہونے سے قبل ملزم فلپ نے وہاں موجود میڈیا کے افراد کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔

فلپ پر الزام ہے کہ اس نے سنیچر دس اگست کو اوسلو شہر کے نزدیک علاقے بائروم میں واقع النور اسلامک سینٹر پر فائرنگ کی تھی۔

مسجد میں حملے کے وقت تین لوگ موجود تھے اور جتنی دیر میں پولیس وہاں پہنچی، ان افراد نے حملہ آور پر قابو پا لیا تھا۔

مسجد میں موجود جس شخص نے فلپ پر جھپٹ کر اسے قابو کیا ان کا نام محمد رفیق ہے جو اس دوران معمولی زخمی بھی ہوئے۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 65 سالہ محمد رفیق پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں۔ 

محمد رفیق نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے فائرنگ کی آواز سنی جب حملہ آور نے دو افراد کو نشانہ بنایا۔

محمد رفیق کے مطابق انھوں نے مشتبہ حملہ آور پر بزورِ بازو قابو پا لیا، اسے نیچے گرایا اور ہتھیار اس سے چھین کر دور پھینک دیے۔

محمد رفیق کے مطابق حملہ آور نے اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے اپنی پوری انگلی ان کی آنکھ میں گھسا دی جس سے وہ معمولی زخمی ہوئے۔

پیر کو جب ملزم کو اوسلو کی ڈسٹرکٹ عدالت میں پیش کیا گیا تو سرکاری وکلا نے اس کی حراست میں لی گئی مدت میں چار ماہ کے اضافے کی درخواست کے علاوہ اس سے ملاقاتوں اور میڈیا کوریج دونوں پر پابندی کا بھی کہا۔

ملزم کی وکیل انی فرائس نے اپنے موکل کے حوالے سے بتایا کہ وہ خود پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتا ہے اور وہ تفتیش کاروں سے بات نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ ناروے میں آٹھ سال قبل ایک نازی خیالات کے حامل شخص نے 77 افراد کو قتل کر دیا تھا جس پر مجرم کو 21 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

پولیس نے کہا ہے کہ ان کو شک ہے کہ ملزم انتہائی دائیں بازو اور پناہ گزین مخالف خیالات کا حامی ہے۔ مسجد پر حملے سے قبل انٹرنیٹ فورم ‘اینڈ چین’ پر اسی نوعیت کا پیغام شائع کیا گیا تھا جس پر شبہ ہے کہ وہ فلپ مانشاؤس کی جانب سے تھا۔

اینڈ چین ویب سائٹ کے منتظمین نے کہا ہے کہ انھوں نے اس پیغام کو حذف کر دیا ہے۔

اُس پیغام میں مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملہ آور برینٹن ٹرانٹ کا ذکر تھا جس پر 51 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

متعلقہ مضامین