میڈیکل کالج کی لڑکیاں

ہم PMC یعنی پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے ڈاکٹر بنے ہیں، پیار سے ہمارے کالج کو دیگر کالجوں والے پینڈو میڈیکل کالج بھی کہتے تھے۔ مگر ہمیں پینڈو ہونے پے کبھی ندامت نہیں ہوئی۔ سینیئر بتایا کرتے تھے “یار شرٹ کا اوپر والا بٹن کھول کر ذرا بازو اوپر چڑھا کے لیکچر ہال میں آیا کرو، بچیوں کی جان نکلتی ہے اس سے”۔ اس وقت تو مان لیا کرتے تھے لیکن اب ان سینیئرز کو ڈھنونڈتے پھرتے ہیں کہ مل کر ان کی قیمتی رہنمائی کا “شکریہ” ادا کر سکیں۔ بچیوں کی جان تو آج تک ہم سے نہ نکلی بس ایک ہنسی ہی تھی جو ان کی نکلا کرتی تھی۔

خیر۔۔۔فیصل آباد سے چلتے چلتے ہم پینڈو لہور پہنچ گئے ہیں۔ یہاں علامہ اقبال میڈیکل کالج کی لڑکیاں ایک بالکل الگ مخلوق ہیں جن کا ہمیں ذرا بھی تجربہ نہیں ہے۔ ان کا “ایکس فیکٹر” بہت ہی زیادہ ہے (یہ جو بھی چیز ہوتی ہے)۔ اکثر لڑکیاں مل کر ایک بالکل foreign لہجے میں انگریزی بولتی ہیں، جو نہ امریکن ہوتا ہے نہ برٹش نہ انڈین۔ اسے decode کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تین چار جملے اوپر تلے انگریزی کے سُن چکنے کے بعد جب آپ جواباً بڑی سی پینڈوانہ “ہائیں؟!” نکالتے ہیں تو ایکس فیکٹر کو یکدم ریورس گیئر سا لگتا ہے، پھر “وائے فیکٹر” نمودار ہوتا ہے اور یہ مخلوق بمشکل اردو میں اپنی اہم بات کا ترجمہ کرنے کی کوشش شروع کر دیتی ہے۔ مگر اس میں بھی ناکام رہتی ہیں، کیونکہ ترجمے کے دوران بھی بیشتر الفاظ اپنے اسی مافوق الفطرت لہجے ہی میں بولتی جاتی ہیں۔ لیکن ایک مزید پینڈوانہ “ہائیں؟!” سے ان میں سے زیادہ تر اپنی “فیکٹری سیٹنگز” میں واپس آنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

بچیوں کی جان تو ہم آج تک نہ نکال سکے، لیکن خوشی ہوتی ہے کہ اب شرٹ کا اوپر والا بٹن بند رکھ کر اور بازو نیچے رکھتے ہوئے بھی ہم ایسی زبانوں کا ذخیرہ ان بچیوں کے اندر سے نکلواتے رہتے ہیں جو کرہ ارض پر سوائے علامہ اقبال میڈیکل کالج / جناح ہسپتال کے کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔ اللہ کے فضل سے ہر بچی میں سے علیحدہ زبان، لہجے اور آوازیں برآمد ہوتی ہیں۔ اور “ہائیں؟!” کہہ کر جتنی دفعہ دل چاہے آپ ان کو reset کر کے اپنی پسند کا کمبی نیشن سُن سکتے ہیں۔

Dr. Uzair Saroya

متعلقہ مضامین