سلامتی کونسل کے 15 ارکان نے کیا کہا؟

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی درخواست پر مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔

مشاورتی اجلاس میں کل 15 رکن ممالک کے مندوبین نے بحث میں حصہ لیا اور اپنی رائے دی۔

پانچ مستقل ارکان فرانس، روس اور امریکہ نے پاکستان اور انڈیا سے کہا کہ مسئلہ کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

چین نے کشمیر کے مسئلے میں خود کو بھی سرحد ملنے کی وجہ سے فریق قرار دیا اور انڈیا کے خلاف گیا تاہم برطانیہ جس نے یہ مسئلہ پیدا کیا اس کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے کیا کہا اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی کسی خبر رساں ادارے یا کسی صحافی نے اس بارے میں کوئی خبر دی ہے۔

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان میں افریقی ملکوں آئیوری کوسٹ اور استوائی گنی یا گینیا نے کیا مؤقف اختیار کیا اس بارے میں بھی کوئی خبر نہ آ سکی۔

بلجیم، جرمنی، جنوبی افریقہ، کویت، انڈونیشیا، پیرو، ڈومینکن ری پبلک اور پولینڈ بھی غیر مستقل ارکان ہیں تاہم صرف ڈومینکن ری پبلک کے بارے میں معلوم ہو سکا کہ ان کے مندوب نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیا۔

اسلامی ممالک انڈونیشیا اور کویت نے مشاورتی اجلاس میں کیا کہا اس بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے تاحال کچھ نہیں بتایا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی مشاورتی اجلاس کے دوران کمرے میں بطور مبصر موجود رہیں تاہم انہوں نے ایک عمومی بیان دیا کہ ’اب کشمیر دوبارہ سے عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔‘

پولینڈ، جنوبی افریقہ، جرمنی اور بلجیم نے کیا انڈیا کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی، اس بارے میں بھی مکمل خاموشی ہے۔

خبر رساں اداروں اور پاکستان و انڈیا کی حکومتوں کو بھی صرف پانچ عالمی طاقتوں کی ہی رائے کی فکر ہے کیونکہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے تو بھی امریکی ویٹو بھاری ہے۔

متعلقہ مضامین