’ٹوئٹر اکاؤنٹس پر فوجی ترجمان کی تشویش‘

پاکستان میں فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر انڈیا مخالف ٹویٹس کرنے والے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطل ہونے کا نوٹس لیا ہے اور یہ معاملہ سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر کشمیر کی صورت حال پر انڈیا مخالف پیغامات اور تبصرے کرنے والے پاکستانی صارفین پانچ اگست کے بعد سے اپنے اکاؤنٹس کی معطلی کی شکایات کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے رہائشی یا صحافی ہیں۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے لیے دفاعی اور سفارتی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کامران یوسف کا ٹوئٹر اکاؤنٹ انڈیا کے وزیر دفاع کے بیان پر تبصرہ کرنے پر معطل کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کا تبصرہ ڈیلیٹ کر کے بحال کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اتوار کو اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ فیس بک اور ٹوئٹر انتظامیہ سے کشمیر کی حمایت پر پاکستانی اکاؤنٹس کی معطلی کا معاملہ اٹھایا ہے۔

فوجی ترجمان آصف غفور نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطلی کی وجہ ٹوئٹر کے علاقائی ہیڈکوارٹرز میں انڈین ملازمین ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے پاکستانی شہریوں سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ اپنے ایسے اکاؤنٹس کی تفصیلات انھیں بتائیں جو فیس بک یا ٹوئٹر نے معطل کیے۔

اس ٹویٹ کے جواب میں کئی پاکستانیوں نے آصف غفور کو اپنے معطل شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ ماضی قریب میں بھی پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے ملاقات کے بعد کشمیر کے معاملے پر انڈیا کے ناقد فیس بک اکاؤنٹس معطل کیے گئے۔

متعلقہ مضامین