خواب، توازن اور قناعت

ڈاکٹر عزیز سرویا

ٹائم لائن پر پوسٹیں دیکھ کر پتا چلا کہ میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ قریب ہے۔ چند ماہ پہلے دنیا سے رخصت ہونے والا میرا ایک مریض (اسے آپ *انیس کہہ لیں) مجھے یاد آ گیا۔ اسے پچھلے سال بلڈ کینسر تشخیص ہوا تھا، وہ بھی ایف ایس سی کر کے اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا اُن دنوں جب اس کی زندگی نے یک دم پلٹا کھایا۔

ہزاروں (اب شاید لاکھوں؟) بچوں کے ”خوابوں“ کا دارومدار اس ایک اینٹری ٹیسٹ پر ہے۔ اس بات کو ذرا دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انیس کے زاویے سے۔

انیس بھی پچھلے سال بیمار ہونے سے پہلے ہزاروں نوجوانوں کی طرح ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنے خواب کی تعبیر کے بہت قریب بھی پہنچ چکا تھا۔ پھر اسے کینسر ہوا۔ جو ہر ہر سانس “ڈاکٹر بننے” کے مقصد کی تکمیل کی خاطر لیتا تھا، اب ہر سانس کے ساتھ اس جدوجہد میں لگ گیا کہ اگلی سانس لے سکے۔ راتوں رات اس کے “goals” تبدیل ہو گئے۔ اس نے ڈاکٹر بننے سے بڑا goal اپنا لیا، یعنی “زندہ رہنا”۔ انیس نے چھ سات ماہ بہادری سے کینسر سے جنگ کی مگر وہ بالآخر ہار گیا۔ جتنے ماہ زندہ رہا ہر ایک دن اس نے آنے والے دن کا سورج دیکھنے کے لیے فائٹ کرتے گزارا۔

اینٹری ٹیسٹ سے پہلے میرا خواب بھی ڈاکٹر بننا تھا۔ ڈاکٹر بن جانے کے بعد میرا اگلا خواب بھی ایسا بھونڈا سا ہی تھا۔ پھر میں نے انیس کو سسکتے اور تڑپتے ہوئے جان کی بازی ہارتے دیکھا۔ انیس، اور اس سے کچھ سال بڑے تو کبھی کچھ سال چھوٹے گھبرو جوان، خوبصورت، زندگی سے بھرپور، ایسے ہی رنگ برنگے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے۔۔۔ میں نے ان کو بے بس حالت میں، جب ان کے سر پے موجود حسین بال ختم ہو چکے تھے، صحت مند جسم ہڈی کے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکے تھے، آنکھوں میں موجود زندگی کی شعاعوں کی جگہ موت کے سائے نے لے لی تھی، اور ان کے گھر والے ان کی اصل (بیماری سے پہلی والی) شخصیت کو بھی بھول چکے تھے میں نے انہیں یوں سب کچھ موت سے پہلے ہی گنوا چکنے کے بعد سسک سسک کے مرتے ہوئے دیکھا۔

پھر مجھے احساس ہوا، گو خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں۔۔۔مگر ڈاکٹر بننے، انجینیئر بننے، بڑی گاڑی لینے، عالشان گھر بنانے، بچوں کو بہترین سکول میں پڑھوانے، انہیں ٹاپ کرانے، اچھی نوکری ملنے جیسے خواب بہت چھوٹے، حقیر اور غیر اہم خواب ہیں۔ بڑے اور اہم خواب یا goals تو یہ ہیں: “ایک اور دن زندہ رہنا”، اپنے منہ سے کھا سکنا، بغیر نالی کی مدد کے پیشاب کر سکنا، اپنے کپڑے خود پہن سکنا، باتھ روم خود جا سکنا، چل پھر کے اپنے پورے ہوش و حواس کے ساتھ دنیا کو محسوس کر سکنا۔۔۔پھر ان سے چھوٹے خواب آتے ہیں، خوش رہ سکنا (چاہے جس حال میں ہوں)، دل پر بوجھ نہ ہونا، کوئی گِلٹ اندر نہ رکھنا، خواہ مخواہ کی عداوتیں اور بُغض پالنا چھوڑ کر اپنا ذہنی سکون غارت ہونے سے بچائے رکھنا۔۔۔

خواب اگر مادی نوعیت کے ہوں تو ان کی تعبیر اطمینان یا تسکین کا باعث نہیں ہوتی۔ یہ سمندر کا پانی پینے جیسا ہے جو تشنگی اور بڑھا دیتا ہے۔ خواب یا goals اگر abstract ہوں، جیسے “خوشی”، “عدل”، “توازن”، “قناعت”، “سکونِ قلب” کا حصول، تب یہ معنی خیز ہوتے ہیں۔ جو دوست ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتے ہیں، میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ مگر دوستو، دعا ہے کہ اللہ ہمیں بڑے خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرے!

متعلقہ مضامین