چوری کچھ نہیں ہوا، پولیس

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چوری کے الزام میں تشدد سے قتل کیے گئے سترہ سالہ ریحان کے مقدمے میں پولیس حکام نے انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ریحان کی موت تشدد کے دوران سر پر ضرب لگنے سے ہوئی۔

فیروز آباد پولیس کے ایس ایچ او اورنگزیب خٹک کا کہنا تھا کہ تشدد کرنے والے ملزمان اپنے گھر سے چوری ہونے والے سامان کی تفصیل نہیں بتا سکے۔

سنیچر کو بہادر آباد پولیس سٹیشن کی حدود میں ملزم زبیر نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر سترہ سالہ ریحان پر تشدد کیا تھا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

ملزمان نے ریحان پر چوری کا الزام عائد کیا تھا اور اس کو گھر میں باندھ کر ننگی ویڈیو بنائی جبکہ تشدد کے ذریعے چوری کا اعتراف کرایا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

مقتول ریحان خداداد کے علاقے کا رہائشی تھا۔ مقتول کے والد کے ساتھ اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شاہراہ قائدین پر مظاہرہ کیا جس میں ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

مقتول کے والد ظہیر ابو الحسن نے بتایا کہ ان کا بیٹا بہادر آباد میں عید الاضحی پر قربانی کے جانوروں کے کاٹنے کے لیے گیا تھا اور سنیچر کو اپنا معاوضہ وصول کرنے پہنچا تھا جہاں بنگلے کے مالک نے اس کو باندھ کر چوری کر الزام لگایا اور تشدد سے قتل کر دیا۔

متعلقہ مضامین