جنسی صحت کے لیے کون سی خوراک؟

محمد کاشف ۔ لندن
ہمارے اردگرد بے شمار لوگوں کا ایک بڑا مسئلہ جنسی معاملات میں معلومات کے نہ ہونے کا ہے۔

کوشش کروں گا کہ انتہائی آسان زبان میں آپ کو اس بارے میں سائنسی نکتہ نظر سے آگاہ کر سکوں۔

مرد کے جنسی عضو میں کبھی کبھار سختی کا نہ ہونا یا کم ہو جانا 60 سال تک کی عمرمیں ایک عام بات ہے۔ مگر برصغیر پاک و ہند ہی نہیں دنیا بھر میں اس حوالے سے غلط معلومات کی بنا پر کروڑوں لوگ نیم حکیموں سے رجوع کرتے ہیں۔

مرد کے جنسی عضو میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی یہ محض خون کی سپلائی اور دباؤ کی وجہ سے اکڑتا ہے۔ ایسے وقت سوائے دماغ کے ہر عضو سے زیادہ خون کی سپلائی عضو تناسل کو دی جاتی ہے، تب مرد جنسی عمل کرتا ہے۔

ورزش کا نہ ہونا، خوراک میں پروٹین کی کمی، دماغی پریشانی اور سوچیں، اور اسی طرح بہت زیادہ تھکاوٹ بھی جنسی قوت میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

خصیے یا testicles ہمارے جسم میں منی یعنی سپرم بنانے کا کارخانہ ہیں۔ ہم جو بھی پروٹین والی غذائیں کھاتے ہیں۔ مثلا گوشت، انڈے، مٹر، لوبیا ( پھلی دار سبزیاں اور دالیں) وغیرہ، ہمارا جسم سب سے اچھی پروٹین فلٹر کر کے خصیوں کو مہیا کرتا ہے تاکہ اس سے وہ سپرم بنا سکیں۔ باقی جسم کو پروٹین اس کے بعد دی جاتی ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ جنسی عمل کرتے ہیں یا مشت زنی سے خود کو فارغ کرتے ہیں، ان کے جسمانی اور جنسی طور پر کمزور ہونے کی بڑی وجہ جسم میں پروٹین کی مقدار میں کمی آنا ہے۔


خصیے اپنا کام یعنی مطلوبہ مقدار میں سپرم بنانے کے بعد، دماغ کو ایک کیمیکل پیغام دیتے ہیں کہ پروٹین کی مزید سپلائی نہیں چاہیے۔ اور اپنا کام انتہائی سست کر دیتے ہیں۔ 48 گھنٹے کے بعد نیا سپرم تیار ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ہفتے میں دو دفعہ، اگر اچھی خوراک ہو تو جنسی عمل یا مشت زنی نقصان نہیں دیتی۔

تازہ سپرم میں ہمیشہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک مہینے سے زیادہ خصیے میں سٹور شدہ سپرم میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت تازہ کے مقابل انتہائی کم ہو گی۔ 


دوسری چیز یہ کہ میل ہارمون، testosterone ہر مرد میں مختلف ہوتا ہے۔ جن میں زیادہ پیدا ہوتا ہے انہیں جنسی عمل کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ جن میں کم ہوتا ہے ان میں جنسی خواہش کم ہوتی ہے۔ خصیے اسی ہارمون کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔ اکثر باڈی بلڈر اس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ کسی ماہر ڈاکٹر کی زیرنگرانی نہ ہو تو انتہائی خطرناک ہے۔

خون میں اگر ٹیسٹو سٹیران کی مقدار زیادہ ہو تو تمام کی تمام پروٹین جسم بنانے میں خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خصیے کئی کئی مہینے اپنا کام نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یعنی انہیں دوبارہ جاگنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ اس لیے سٹیرائڈز سے دور رہیں۔

اب حل کیا ہے۔ کمزور حضرات نے پروٹین سے بھرپور خوراک اور ورزش کم از کم 90 سے 120 دن جاری رکھنی ہے۔ دودھ پئیں۔ ایک دو لیٹر، ڈریں مت۔ کچھ نہیں ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ پیٹ خراب ہوگا، پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔

یاد رکھیں، آپ کا جسم آپ کے کنٹرول میں یے۔ ہر روز دودھ ملے گا تو دودھ بھی ہضم ہونا شروع ہو جائے گا۔ دودھ بہت جلد وزن بڑھاتا ہے۔ میں نے خود 90 دن ہر روز تین لیڑ دودھ استعمال کیا ہے۔ انڈے کی سفیدی جتنی کھا سکتے ہیں، کھا جائیں۔ میں خود ہر روز 36 انڈے تک بھی استعمال کر چکا ہوں۔ دس بارہ روز آرام سے کھائیں جا سکتے ہیں۔ زردی، فیٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے، دو سے زیادہ استعمال نہ کریں۔ انڈے جلد ہضم ہونے والی سب سے شاندار پروٹین ہے۔ لازمی ہر روز کھائیں۔

مچھلی اگر ملے تو۔ گوشت بکرا یا گائے، مرغی ہر روز کم از کم 300 گرام ضرور استعمال کریں۔ دن میں ایک بار مکس سلاد استعمال کریں۔ لوبیا اور مٹر ہر روز سو گرام ضرور استعمال کریں۔ کشمش صرف اچھی قسم کی چینی یعنی نشاستے والی خوراک ہے۔ اس لیے یہ فوری طاقت دیتی ہے۔

شدید کمزوری میں بادام اور کشمش سٹیرائڈ کا کام کرتے ہیں۔ سب کچھ نہیں کھایا جا سکتا۔ یہ صرف مثالیں ہیں کہ آپ کو کیا کھانا چاہیے۔ 

(پاکستان ٹوئنٹی فور کے لیے جنسی صحت اور اچھی غذا پر یہ تحریری سلسلہ جاری رہے گا۔)

محمد کاشف لندن کی اینگلیا رسکن یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں۔ 25 برس سے باڈی بلڈنگ شوق ہے اور لندن میں ایک نجی فرم سے منسلک ہیں۔

متعلقہ مضامین