کچھ ذکر حامد میر کا

شعیب عادل

مئی ۲۰۰۰ میں ماہنامہ نیا زمانہ کا لاہور سے آغاز ہوا۔ اس وقت اردو زبان میں کوئی بھی ایسا ماہانہ یا ہفت روزہ میگزین ایسا نہ تھا جس میں مذہبی انتہا پسندی ، طالبانائزیشن، افغانستان میں نام نہاد جہاد اور پاک بھارت تعلقات پر معروضی تجزیہ کیا جاتا ہو۔ انگریزی جرنلزم میں تو بہت مواد تھا مگر اردو میں یہ دستیاب نہیں تھا۔اکا دکا میگزین کا آغاز ہوتا بھی تو دو چار ماہ بعد بند ہوجاتا۔ نیا زمانہ کا مقصد یہی تھا کہ ابتدا میں انگریزی مضامین کا ترجمہ شائع کیا جائے اور ایسا ہی کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والے بھی آتے گئے۔

ابھی نیا زمانہ کے آغاز کو تین چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک دن حامد میر کا فون آیا اور کہنے لگا کہ شعیب عاد ل سے بات کرنی ہے تو میں نے جواب دیا کہ بول رہا ہوں فرمایئے تو کہنے لگے کہ

آپ افغان جہاد کو نام جہاد یا فساد کہتے ہیں، حالانکہ اس جہاد کے ذریعے ایک بڑی سپر پاور روس کا شکست دی گئی ، عوام نے حقیقی قربانیاں دیں وغیرہ وغیرہ۔ یعنی اس وقت جو ریاستی بیانیہ تھا وہ سب انھوں نے بیان کردیا۔

میں نے جواب دیا کہ آپ کی باتیں درست ہیں اگر آپ کو ہمارے میگزین کے کسی مضمون یا پالیسی سے اختلاف ہے تو آپ اپنا مضمون بھیج دیں ہم اسے شائع کر دیں گے۔ تو انھوں نے فورا جواب دیا کہ آپ کا فیکس نمبر کیا ہے (اس وقت ابھی وٹس ایپ شروع نہیں ہوا تھا) میں نے بتایا تو کہنے لگے کہ میں بھجواتا ہوں۔ پانچ منٹ کے اندر ان کی فیکس آگئی تو پھر دوبارہ فون کرکے پوچھا کہ آپ کو فیکس مل گئی ہے، پورے پانچ صفحے ہیں اور کوئی لائن تو مس نہیں ہوئی میں نے جواب دیا کہ پورے پانچ صفحے مل گئے ہیں اور تمام کے تمام پڑھے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ نیازمانہ کوئی مقبول میگزین نہیں تھا اس کی ریڈر شپ محدود تھی ۔ حامد میر کے فون سے ظاہر ہوتا تھا کہ بااثر حلقوں کو اس میگزین سے تکلیف ہونی شروع ہو گئی تھی۔ حامد میر ان دنوں اسلام آباد سے شائع ہونے والے روزنامہ اوصاف سے وابستہ تھے اور ان کے کالم ’’قلم کمان ‘‘کی کافی شہرت تھی جس میں وہ افغانستان کے جہاد اور طالبان کی ڈٹ کر حمایت کر رہے تھے۔بہرحال ان کا مضمون نیا زمانہ کی اگلی اشاعت میں شامل تھا اس سے اگلے ماہ ہم نے حامد میر کا نام لیے بغیر افغان جہاد کے ایک بار پھر بخیے ادھیڑے۔

جواب پڑھ کر دوبارہ انھوں نے فون کیا ، حسب معمول ریاستی بیانیہ دہرایا اور کہا کہ آپ صحافت میں نووارد ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ افغان جہاد نے پاکستان کو کتنا فائدہ دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ افغان جہاد پر انگریزی میں جو شائع ہورہا ہے ہم تو وہ ترجمہ کرکے چھاپ رہے ہیں تاکہ عوام الناس کو بھی اس کی حقیقت کا علم ہو۔ لیکن انھوں نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا کہ میں مضمون فیکس کررہا ہوں۔ انھوں نے مضمون بھیج دیا دوبارہ فون کرکے مضمون کی صحت کے متعلق دریافت کیا اور مطمئن ہوگئے ان کا یہ جواب بھی اگلے ماہ شائع ہوگیا ۔ ہم بھی شاید پاگل تھے اور اس کے جواب کی پھر ایسی تیسی پھیر دی۔۔۔ حامد میر کو شاید سمجھ آگئی کہ یہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں لائن پر آنے والے نہیں لہذا انھیں راہ راست پر لانے کے لیے انھوں نے دوسرا حربہ اختیار کیا۔

احمدسلیم صاحب سے میری دوستی تھی میں نے انہیں کہا کہ کوئی مضمون ہی بھیج دیں تو انھوں نے کہا کہ میں نے تسلیمہ نسرین کا ایک مضمون ترجمہ کیا ہے کیا تم اسے نیا زمانہ میں شائع کرو گے تو میں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ انھوں نے یہ مضمون یونیسکو کے میگزین کے لیے ترجمہ کیا تھا اور نیا زمانہ کو بھی دے دیا۔ جب مضمون شائع ہوا تو حامد میر نے اپنے مشہور زمانہ کالم قلم کمان میں لکھا کہ اس وقت پاکستان میں بنگلہ دیش کی ملعونہ مصنفہ تسلیمہ نسرین جو کہ توہین رسالت کی مرتکب ہے کو پاکستان میں نیا زمانہ اور یونیسکو کے میگزین شائع کر رہے ہیں۔ یہ ایک عالمی سازش ہے کیوں نہ ان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا جائے۔

یہ کالم پڑھ کر میں تو پریشان ہو گیا کہ ابھی میگزین کے آغاز کو چند ماہ ہی ہوئے ہیں تو یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے بہرحال کچھ سنئیر صحافیوں سے مدد کی اپیل کی انھوں نے بھی مجھے سمجھایا کہ ہتھ ذرا ہولا رکھو تسی وی انی مچائی ہوئی اے۔

بہرحال خیریت گذری اور معاملہ آگے نہ بڑھا۔ نیا زمانہ مسلسل چودہ سال تک ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو شائع ہوتا رہا تاانکہ طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ نے مجھ پر توہین رسالت کا الزام لگایا اور پولیس اس کیس کے الزام میں مجھے پکڑ کر لے گئی اور چودہ سال ایک ماہ بعد جون ۲۰۱۴ کو یہ میگزین بند ہوگیا۔

طاہر اشرفی اور حسن معاویہ کی کہانی اگلی قسط میں بیان کی جائے گی۔

بشکریہ نیا زمانہ ڈاٹ کام

متعلقہ مضامین