شیخ صاحب! خدا خدا کیجیے

شیخ صاحب بھی گزر گئے۔ بنچ سے اٹھ کر ایسے گھر گئے جیسے کوئی دنیا سے جاتا ہے۔ چپکے اور خاموشی کے ساتھ ۔

ان سے اچھے تو ان کے یارغار ثاقب نثار رہے جنہوں نے اپنے لیے شاندار تقریب کا اہتمام کر ڈالا تھا۔

مگر وہ شیخ ہیں آرائیوں کا مقابلہ کہاں کر سکتے تھے۔ ہر چند کہ ثاقب نثار کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے شیخ صاحب کے ساتھ لاہور کچہری میں ایک ’پھٹے‘ (بنچ) سے وکالت کا آغاز کیا تھا مگر کہاں پیاز اور کہاں لال سرخ ٹماٹر۔

اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔ یا پھر ہمت کی۔ (اس کو بے شرمی یا ڈھٹائی پڑھنے والے اپنی سوچ کے خود ذمہ دار ہوں گے کیونکہ ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم کے پہرے دار بن چکے ہیں)۔

منصوبہ تو جسٹس قاضی فائز کو پہلے گھر بھیجنے کا تھا مگر درمیان میں شیخ صاحب کے گھر جانے کا وقت آ گیا۔ شیخ صاحب نے کہا ہوگا کہ پہلے ہی بہت پاپ کر لیے، اب یہ کسی اور کے سر ڈال دیجیے۔

ذرائع نے قبل از وقت ہی بتا دیا تھا کہ شیخ صاحب آخری دنوں میں پریشان رہے کہ یہ کام تو ان سے نہ لیا جائے۔ ’کم از کم ان کو سکون سے رخصت تو ہونے دیا جائے۔‘

اگر آپ ذرائع کا پوچھیں گے تو آج کل ذرائع براہ راست ہیں کیونکہ واٹس ایپ نے آسانی بلکہ کرم کر دیا ہے۔ یقین نہیں آتا تو معلومات میں اضافے کے لیے بتائے دیتے ہیں کہ ’حضرت‘ اوریا مقبول جان اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں ایک تقریب میں شریک تھے۔ ساتھ ہی کرسی پر ایک سینئر صحافی بیٹھ گئے۔

مقبول جان صاحب نے فورا فرمایا کہ ان کے ذرائع نے فلاں بات بتائی ہے اور وہ بڑے مستند ہیں۔ سینئر صحافی تھوڑے سے شرارتی بھی ہیں اور تفیتیش کار بھی۔ انہوں نے چھیڑنے کے لیے ایک دو سوال پوچھ لیے تو مقبول جان صاحب نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی ان کے ساتھ واٹس ایپ پر رابطے میں رہتے ہیں۔ اور پھر فورا اپنے فون سے ثبوت بھی فراہم کر دیا۔

سینئر صحافی نے کہا کہ یہ کسی جج کے لیے بھی مناسب نہیں کہ اس طرح رابطہ رکھے اور یہ ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

خیر بات آئی گئی ہوگئی۔ اور پھر جب جسٹس شوکت صدیقی نے مالکوں کے عدلیہ میں عمل دخل پر راولپنڈی بار میں تقریر کر دی تو اوریا مقبول جان نے اپنے ٹی وی پروگراموں، کالمز اور فیس بک پر ان کی ایسی تیسی پھیر دی۔ واٹس ایپ ذرائع اور رابطوں کا بھی پاس نہ رکھا۔

خیر یہ جملہ معترضہ تھا۔ ذرائع تو اب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

شیخ صاحب کا ماضی بطور وکیل شاندار تھا کہ جاندار، اس کا تو وکلا برادری ذکر کرتی رہتی ہے مگر عدالتی ویب سائٹ پر ان کے تعارف میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کے طور پر مشرف دور میں اٹک قلعے میں بھی وکالت کی۔

اور پھر اس کے بعد وہ جج بنے۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور یہ بھی کہ پانامہ کیس میں عمران خان کے وکلا کو انہوں نے کہا کہ آپ کی درخواست کے ساتھ دیے ثبوتوں کی دستاویزات تو پکوڑوں کی دکان پر ملتی ہیں۔

اور پھر ”سسلین مافیا“ کے دور میں ان کو کلمہ حق کہنا یاد آ گیا اور انہوں نے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے وزیراعظم کو عہدے سے نااہل قرار دے دیا۔

اخیر یہ ہوگئی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رخصت ہوتے شیخ صاحب سے ہاتھ بھی نہ ملایا۔ شیخ صاحب کی رخصتی کے لیے روایت کے مطابق تین تقاریب ہوئیں۔ ایک بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عشائیہ، اگلے دن فل کورٹ ریفرنس اور پھر اسی رات چیف جسٹس کی جانب سے عشائیے میں چند تقاریر۔

رپورٹر مگر بہت بدتمیز ہوگئے ہیں۔ کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں۔ پہلے ڈنر میں ہی ایک نے چیف جسٹس کی بنائی ’ماڈل کورٹس‘ کی بہت زیادہ تعریف کر دی۔ وہ ابھی خوش ہو کر اللہ کا شکر بجا ہی لا رہے تھے کہ رپورٹر نے پوچھا ’سر وہ پرویز مشرف کے مقدمے میں کوئی ماڈل کورٹس آگے نہیں بڑھ رہی۔‘

بات ہی اتنی بدمزہ ہو تو جواب میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بھی اللہ کی مرضی پر ڈال دیا کہ ‘سپریم کورٹ تو خصوصی عدالت کو کہہ چکی ہے۔‘

شاید اس بات کا اثر تھا یا ایک دن قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے متفرق درخواست میں لکھے گئے کچھ جملوں کا کہ اگلے دن فل کورٹ ریفرنس کے بعد چائے اور پھر عشائیے پر چیف جسٹس میزبان ہوتے ہوئے بھی مہمانوں سے بہت پہلے واپس چلے گئے۔

بات مگر شیخ صاحب کی ہو رہی تھی۔ ایک رپورٹر نے ان سے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سب سے پہلا انٹرویو مجھے دیجیے گا۔ شیخ صاحب ٹھہرے بذلہ سنج اور مرنجان مرنج انسان، روا روی میں بول گئے کہ ’کتنے پیسے دیں گے‘؟۔ صحافی نے جواب دیا کہ ’460 روپے ٹھیک رہیں گے۔‘

اب کس بدنصیب کو نہیں معلوم کہ شیخ صاحب نے کتنی مشکل سے ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف دیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کراتے ہوئے معاملہ صرف 460 ارب روپے میں ختم کرا دیا تھا۔

ملک ریاض سے دو ہزار ارب روپے کی زمین کے 460 ارب روپے اور وہ بھی سات سال کی قسطوں میں وصول کرنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ معلوم نہیں اگر شیخ صاحب نہ ہوتے تو بحریہ ٹاؤن کے ’مافیا‘ سمجھے جانے والے ’ڈان‘ پر کون ہاتھ ڈالتا۔

شیخ صاحب عدالتی تقاریب میں ایک اینکر کم رپورٹر کو دیکھتے تو ان سے کہتے ”کسی کو تو بخش دیا کرو۔ اپنی ایک سائیڈ محفوظ رکھنی چاہیے۔“

بہرحال شیخ صاحب رخصت ہوگئے۔ میڈیا سے انہوں نے ہمیشہ بنا کر رکھی۔ جب لاہور ہائیکورٹ میں تھے تب بھی اور جب سپریم کورٹ آئے جب بھی۔ لاہوری رپورٹرز کہتے تھے کہ واٹس ایپ فہرست میں ٹاپ پر ان کا نام ہے۔ اور سپریم کورٹ رپورٹرز بھی ان سے اچھی دعا سلام کرتے رہے۔

شیخ صاحب کی یہ بات کچھ لوگوں کو اچھی لگی کہ انہوں نے میڈیا کو سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور ایک دو فیصلوں میں بھی اس کا ذکر کیا۔ ریمارکس میں تو خیر وہ ہمیشہ سے ہی کہتے رہے کہ میڈیا تنقید کرتا ہے اور ہم نوٹس نہیں لیتے کیونکہ اظہار رائے کی آزادی چاہتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ حدود قیود کا خیال کرنا چاہیے۔

میڈیا سے سخت ناراض وہ احمد نورانی کی واٹس ایپ والی خبر پر ہوئے تھے۔ انہوں نے ثاقب نثار کی طرح اپنے ناقدین کو ’فکس‘ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سابق چیف جسٹس نے تو ایک معمولی پروگرام پر اینکر ارشد شریف سے معافی منگوا لی تھی اور ایک لمبا چوڑا فیصلہ تحریر کر دیا تھا۔

ریٹائرمنٹ کے دن ایک رپورٹر نے شیخ صاحب سے نمبر مانگ لیا کہ اب تو آپ عدلیہ سے جا رہے ہیں اگر کل کو کسی کمیشن یا سرکاری ادارے میں خدمات مل گئیں تو رابطہ کرنے میں آسانی رہے گی۔ شیخ صاحب مگر راضی نہ ہوئے۔ اسی دوران ایک اور صحافی نے کہا کہ ’سر وہ واٹس ایپ والا ایکسلیوزیو نمبر ہی دے دیں۔‘

شیخ صاحب مگر مان کر نہ دیے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد شاید واٹس ایپ رابطوں کے حق میں نہ ہوں مگر ان کی رخصتی کے اگلے ہی دن لاہور میں رانا ثنا اللہ کا مقدمہ سننے والے انسداد منشیات عدالت کے جج نے کہہ دیا کہ ان کو واٹس ایپ پیغام آ گیا ہے کہ کیس کی سماعت سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شیخ صاحب کی رخصتی کی تین تقاریب میں بڑوں کو قریب سے دیکھ کر اور جسٹس قاضی فائز کی 25 صفحات پر مشتمل درخواست پڑھ کر سمجھ آ گئی کہ یہاں سب نوکری بچانے کی کوشش میں ہیں۔

اس لیے زیادہ تفصیل میں نہیں جاتے۔ یہی سمجھ لیں کہ ہم بھی نوکری ہی بچا رہے ہیں۔

نہیں معلوم شیخ صاحب عدلیہ میں سولہ سترہ برس گزارنے کے بعد خوش گئے ہیں یا نہیں مگر جتنی بھی نوکری کر لی جائے آخر جانا ہی ہوتا ہے۔ اب ہر کوئی جنرل قمر جاوید باجوہ تو نہیں ہوتا جس کو عمران خان جیسا باس مل جائے جو ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی تین سال کی مزید نوکری پکی کرنے کی چھٹی پر دستخط کر دے۔

خواجہ میر درد نے کہا تھا

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے


(شیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے)

متعلقہ مضامین