300 ارب تو گئے

محمد اشفاق ۔ تجزیہ کار

گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے معاملے پر حکومت بجا طور پر سخت دباؤ کا شکار ہے۔ چنانچہ جناب عمر ایوب خان نے بھی آج اس معاملے پر ٹویٹر پہ لب کشائی فرمائی ہے- حکومت کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کا دفاع کرنے کی کوشش ہو رہی ہے- چونکہ بدقسمتی سے میں نے اس موضوع پر لکھنے میں پہل کی تھی، اس لئے ہر جوابی پوسٹ پر احباب میری رائے جاننے کے خواہاں ہیں۔ مناسب سمجھا کہ اپنی رائے اپنی وال پر ہی تفصیلاً بیان کر دی جائے۔

جناب لالہ صحرائی کا موقف یہ ہے کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے- اور ہوا ہے تو کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں، حکومت نے ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس موقف پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔

جناب ناصر عباس فیسبک پر معیشت پہ لکھنے والوں میں خوشگوار اضافہ ہیں۔ تحقیق کر کے، شائستگی کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ جناب بابا کوڈا پی ٹی آئی کے بہت سے نام نہاد دانشوروں کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار اور زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔ ان دونوں حضرات کے انداز بیاں کے فرق سے ہٹ کر دلائل کم و بیش ایک سے ہیں۔ دونوں کے خیال میں چونکہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے سی این جی سیکٹر کے پچاس فیصد واجبات اس مد میں 2015 میں معاف کر دیے تھے، اس بناء پر موجودہ حکومت کے پاس دیگر سیکٹرز کو بھی یہی سہولت فراہم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

جی آئی ڈی سی کا نفاذ جناب حفیظ شیخ نے 2011 میں کیا تھا۔ اس سے اگلے ہی برس یعنی 2012 میں گیس کی شدید قلت کے باعث سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی۔ اگلے دو ڈھائی برس یہ فراہمی صرف گرمیوں ہی میں بحال ہوتی تھی۔ آپ کو بھی یقیناً وہ دن اور گاڑیوں کی وہ طویل قطاریں یاد ہوں گی ۔ اس وقت یعنی 2012 میں 3200 سی این جی سٹیشنز تھے جو 2016 میں صرف 2200 رہ گئے۔

2015 تک سی این جی سیکٹر پہ سیس کی مد میں واجب الادا رقم پچاس ارب روپے تھی۔ انتہائی نامساعد حالات میں بھی سیکٹر اٹھارہ ارب روپے ادا کر چکا تھا باقی بتیس ارب کے واجبات میں سے پہلے حکومت کو آٹھ ارب، پھر تیرہ ارب ادائیگی کی پیشکش کی گئی، بالآخر سولہ ارب روپے پہ سمجھوتہ ہوگیا۔ ہوں حکومت کو پچاس ارب میں سے چونتیس ارب روپے وصول ہوئے۔ تو یہ کہنا سرے سے غلط ہے کہ پچاس فیصد رعایت دی گئی۔ اور یہ استدلال بھی درست نہیں کہ نون لیگ کا سولہ ارب معاف کرنا پی ٹی آئی کو تین سو ارب کی سخاوت کو جواز بخش دیتا ہے-

دوسرا یہ کہنا بھی حقائق کے منافی ہے کہ اس وقت تک باقی سیکٹرز ادائیگی کر رہے تھے، صرف ٹیکسٹائل سیکٹر پہ 2015 تک بھی سو ارب روپے واجب الادا تھے۔ یہ بات البتہ درست ہے کہ مختلف گروپس اس سیس کے خلاف عدالتوں سے سٹے آرڈر لئے بیٹھے تھے، جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا وہ عوام سے تو بدستور یہ ہرجانہ وصول کرتے رہے مگر حکومتی خزانے میں جمع کروانے سے منکر رہے۔

جناب بابا کوڈا کا یہ استدلال کہ انویسٹمنٹ نہیں ہو رہی تھی کیونکہ سیس کی وجہ سے ان پٹ کاسٹ بڑھ چکی تھی، اس لئے غلط ہے کیونکہ ایک تو سیس عوام سے وصول کیا جا رہا تھا اور دوسرا حکومت کو جمع ہی نہیں کروایا جا رہا تھا، تو ان پٹ کاسٹ کیسے بڑھتی۔ آپ کا یہ فرمانا البتہ درست ہے کہ صنعتکاروں کو کئی ماہ پہلے سے ہی اس فیصلے کا علم تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلی مرتبہ گزشتہ سال اکتوبر میں اٹھایا گیا تھا، اسی مہینے جس میں حسین داؤد صاحب نے اپنے حب کو کے حصص حبیب اللہ خان صاحب کو 175 ملین ڈالرز میں فروخت کئے تھے۔

ڈالر مہنگا ہونے کے باوجود برآمدات بڑھنے کی بات مضحکہ خیز ہے، کیونکہ ڈالر مہنگا ہوا ہے تبھی برآمدات بڑھی ہیں، انہیں 28 اگست کو معاف کئے جانے والے سیس سے منسوب کرنا بجائے خود کمال ہے۔

بابا کوڈا صاحب کی یہ بھی غلط فہمی ہے کہ حکومت نے آدھا پیسہ معاف کر کے باقی اپنے پاس رکھا ہے- حکومت نے آدھا پیسہ معاف کیا ہے اور باقی آدھے کیلئے پیشکش کی ہے کہ صنعتکار سیلز ٹیکس ریفنڈ، ڈی ایل ٹی ایل کلیمز اور سب سڈی کی مد میں اسے ایڈجسٹ کر لیں تاکہ حکومت کے خزانے میں ایک دھیلہ بھی جمع نہ ہو پائے۔

جناب ناصر عباس کے خیال میں موجودہ حالات میں یہی بہتر حکمت عملی تھی، مگر مجھے ایسا نہیں لگتا۔ اگر تو یہ ٹیکس صنعتکاروں نے اپنی جیب سے دینا ہوتا تو پھر بھی ہمیں زیادہ اعتراض نہ ہوتا، یہاں ان سینکڑوں ارب کا رونا رویا جا رہا ہے جو یہ صنعتکار عوام کی جیبوں سے نکلوا کر اپنی جیبوں میں ڈالے بیٹھے ہیں۔

جو حکومت جج تبدیل کروانے کیلئے راتوں رات چیف جسٹس سے ملاقات کر سکتی ہے اسے ان سٹے آرڈر اور مقدمات کا جلد فیصلہ کروانے کیلئے عدلیہ سے مل بیٹھنے میں کیا امر مانع تھا؟

آج جناب عمر ایوب خان نے اعتراف کیا ہے کہ 2015 میں حکومت نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ پیش کر کے اس کا حل نکالا تھا۔ جناب کے مطابق وہ بھی اسی طریقے پر عمل پیرا ہیں۔ سوال ان سے صرف یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے آپ کو راتوں رات صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی کیا جلدی تھی؟ کیا اس لئے کہ پارلیمنٹیرینز پہلے ہی یہ سوال اٹھانے لگے تھے کہ مجوزہ سہولت سے کن کن کاروباری گروپوں کو کتنے کا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ اب چار ماہ بعد اگر پارلیمنٹ اس آرڈیننس کو مسترد بھی کر دیتی ہے تو تب تک چڑیاں کھیت چگ گئی ہوں گی۔

متعلقہ مضامین