شہرت، تعلق اور احتیاط

عمران زاہد

بعض اوقات کم عمری میں شہرت مل جاتی ہے اور انسان آپے سے ہی باہر ہو جاتا ہے۔ شہرت بچانا (ہضم کرنا) بہت مشکل کام ہے۔ اس حوالے سے مشہور کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر کے متعلق ایک خبر وائرل ہوئی جسے بہت کم عمری میں ہی شہرت نصیب ہو گئی تھی۔ اس شہرت نے اس کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اس نے اس کی تفصیل اپنے انسٹاگرام پر ڈالی ہے۔


جسٹس بیبر کے مطابق کم عمری کی شہرت نے اس کی سوچ کو منفی بنا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ قریبی رشتوں کی قدر کی بھلا بیٹھا تھا۔ خواتین کی عزت کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ خود سے ہی ناراض رہنے لگا تھا اور 19 برس کی بالی عمریا میں ہی منشیات کے نشے میں ڈوب کے رہ گیا تھا۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے لئے وبال جان بن گیا تھا۔

خیر جسٹن بیبر کا معاملہ تو بہت انتہا کا تھا اور خوشی کی بات ہے کہ اسے اپنی کوتاہیوں کا بہت جلد احساس ہو گیا۔ 

ایسا ہی ایک اور معاملہ پچھلے دنوں نظر سے گزرا۔ ایک اوسط درجے کے گلوکار و اداکار نے اپنی اہلیہ، جو خود بھی ایک ماڈل اور اداکارہ ہے، کے بارے میں بہت نازیبا تبصرے سوشل میڈیا پر ڈالے۔ اس سے پہلے اس کی اہلیہ نے اس پر تشدد، فراڈ وغیرہ کے الزامات عائد کئے تھے۔ اس وقت وہ عدالتی کارروائی کے ذریعے خلع کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اس سارے ایپی سوڈ سے بہت دکھ ہوا۔ قرآن میں بھی یہ حکم ہے کہ اگر اپنی ازواج کو چھوڑنا ہو تو احسن طریقے سے چھوڑو۔ ان کے سکینڈل مت گھڑو۔ یہ تو ویسے بھی ایک غیر مہذب رویہ ہے۔ اس طرح کا ناپختہ رویہ بھی جلد شہرت ملنے کا شاخسانہ ہے۔ 

ہمارے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں میاں بیوی میں علیحدگی ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے کبھی ایک دوسرے کا منفی انداز میں ذکر نہیں کیا۔ ایک مثال تو طاہرہ سید اور نعیم بخاری جیسے خوبرو جوڑے کی ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ دونوں نے علیحدگی کے بعد کبھی اپنے سابقہ ساتھی کے بارے میں کوئی نازیبا کلمات ادا کیے ہوں۔ عمران خان اور ان کی سابقہ اہلیہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ مجھے خان صاحب کا یہ رویہ بہت پسند ہے کہ انہوں نے اپنی کسی سابقہ اہلیہ تو کیا کسی سابقہ شناسا خاتون کی بھی کبھی برائی نہیں کی۔ ریحام خان نے ان پر کتاب لکھی۔ اس میں خاصے شرمناک الزامات تھے لیکن خان صاحب نے کوئی جوابی الزام نہیں لگایا۔ یہ بہت متاثر کن بات ہے۔ 

ایک پرانی کہاوت مشہور ہے کہ ایک اعرابی نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ اس کی اہلیہ میں آخر وہ کیا خامی تھی جس کے وجہ سے اس نے طلاق دی ہے۔ اس نے جواباً یہ کہا کہ ابھی میرے پاس رجوع کرنے کا حق موجود ہے۔ میں اگر اس کی خامی آپ لوگوں کو بتلا دوں تو ایک طرح سے اپنے ہی گھر کا پردہ فاش کروں گا جو کہ مناسب نہیں ہے۔ لوگ چپ ہو گئے۔ رجوع کرنے کا وقت بھی گزر گیا اور خاتون دوسری شادی کے لئے آزاد ہو گئی۔

لوگ پھر اس شخص کے پاس آئے اور استفسار کیا کہ اب تو رجوع کرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب بتا دو کہ وہ کیا خامی تھی جس کہ وجہ سے تم نے اسے طلاق دی۔ اس نے کہا کہ وہ خاتون اب دوبارہ رشتے کے انتظار میں ہے۔ میں کوئی برائی کروں گا تو اس میں حرج آئے گا۔ یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ لوگ پھر چپ ہو گئے۔ اس خاتون کی کہیں اور شادی ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ دوبارہ اس کے پاس آئے اور اسے کہا کہ اب تو اس کی شادی بھی ہو گئی ہے۔ اب تو بتا دو کہ اس میں کیا خامی تھی۔ اس اعرابی نے کہا کہ اب تو وہ ایک دوسرے شخص کی عزت ہے ۔۔ مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی عزت سے کھلواڑ کروں۔ 

یہ تو ازداوجی تعلقات کی بات ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ جب لوگ کسی ادارے میں ایک عمر گزار کر الگ ہوتے ہیں تو اس کے بارے میں منفی باتیں پھیلانے لگتے ہیں۔ نوکری کے ہر انٹرویو میں امیدواروں سے سابقہ نوکری چھوڑنے کی وجہ پوچھی جاتی ہے۔ اپنے سابق ادارے کی برائیاں بیان کرنے والا امیدوار نئی جگہ نوکری کے امکانات کافی کم کر لیتا ہے۔ اسی طرح کوئی طالب علم فارغ اتحصیل ہونے کے بعد اپنے تعلیمی ادارے کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دے تو وہ اپنی قابلیت اور مستقبل کے بارے میں سوال کھڑے کر لیتا ہے۔

فردوس عاشق اور فود چوہدری جیسے لوگ ایک مکروہ کردار لگتے ہیں کہ جن جماعتوں میں وہ رہے جن کے ساتھ وفا کی قسمیں کھائیں، آج ان کی برائیاں بڑھ چڑھ کر رہے ہیں۔ کل کو یہی لوگ عمران خان کی برائیاں کر رہے ہوں گے۔

تازہ تازہ شہرت حاصل کرنے والے نوجوان افراد کو ان مثالوں اپنے تعلقات اور رشتوں ناتوں کا احترام سیکھنا چاہیے۔ جس کے ساتھ کچھ وقت بتایا ہو اس کی شرم حیا اپنے اوپر لازم کرنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین