پولیس مقابلے کی ویڈیو حقیقی ہے مگر

عظمت گل ۔ صحافی

اسلام آباد میں دہشت گردی سے نمٹنے کی فرضی مشق میں انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ایف) کے اہلکاروں نے اصلی فائر کر کے دو پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا ہے جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام اور اسلام آباد انتظامیہ معاملے کو دبانے کے لیے سرگرم ہیں۔


زخمی پولیس اہلکار امریز شاہ کے بیان نے اسلام آباد پولیس کی فرضی مشق کو جعلی پولیس مقابلہ بنانے کا پول کھول دیا ہے تاہم حیران کن طور پر زخمی اہلکار سے لیے گئے دو صفحات کے سادہ بیان کے آخر میں لکھا گیا ہے کہ وہ ’گولیاں مار کر زخمی کرنے والے سی ٹی ایف کے اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں چاہتا صرف ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی درخواست کرتا ہے۔‘

زخمی اہلکاروں کے مطابق یکم ستمبر کو محرم میں امن و امان کے سلسلے میں افسران کی جانب سے ان کو ون فائیو دفتر پر دہشتگردی کے حملے کو روکنے کی ریہرسل کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

زخمی اہلکاروں نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ راستے میں فیض آباد کے قریب ٹریفک پولیس کی گاڑی نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا اور گاڑی سائیڈ پر لگا ہی رہے تھے کہ سی ٹی ایف اہلکاروں نے فائر کھول دیا۔

”ہم چیختے رہے کہ یہ ریہرسل ہو رہی اور ہم پولیس ملازم ہیں جبکہ سی ٹی ایف اہلکار بھی جانتے تھے کہ ہم پولیس ملازم ہیں۔“

بیان کے مطابق ایک سی ٹی ایف اہلکار نے کہا کہ ’یہ تو مصطفیٰ ہے جو پولیس میں ہوتا ہے۔‘

زخمی اہلکار کے مطابق پہچاننے کے باوجود سی ٹی ایف اہلکاروں نے ہمیں سڑک پر جانوروں کی طرح گھسیٹا، مارا اور گالیاں دیں۔

بیان کے مطابق سی ٹی ایف اہلکاروں نے ہمیں برسٹ مارنے کی کوشش کی، زخمی حالت میں منتیں کر کے جان بچائی۔

زخمی اہلکار نے ملزمان کے خلاف قانونی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کیا ہے تاہم سخت محکمانہ کاروائی کی التجا درخواست میں لکھی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ تاحال اس بارے میں خاموش ہیں کہ ان کی فورس کے دو اہلکاروں کو سی ٹی ایف کے ذریعے پولیس مقابلے میں قتل کرنے کی کوشش کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔

متعلقہ مضامین