اگر وہ بے گناہ نکلی تو

محترم سہیل وڑائچ ہمارے جیسوں کے لیئے استادوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیئے وہ استادوں کے استاد ہیں۔

وہ اپنے نرم لہجے اور بھولے چہرے کے ساتھ ایسے، ایسے سچ بولنے پر قادر ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ملکی سیاست پر انکی گہری دسترس ہے۔ حلقوں کے سیاسی گھمسان ان کو زبانی یاد ہیں۔ نصف صدی سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ ٹی وی اینکر بن کر بھی انہوں نے لاجواب کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو نئے لکھنے والوں سے حسد نہیں رکھتے بلکہ انکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ رہنمائی کرتے ہیں۔ اختلاف سے بیزار نہیں ہوتے بلکہ اختلاف کرنے والوں سے خوش ہوتے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا برا نہیں مانتے بلکہ دھیمے سے ہنس کر ضرور یہ کہتے ہیں کہ "کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے”۔

پانچ ستمبر کے جنگ اخبار میں محترم سہیل وڑائچ کا کالم چھپا "اگر وہ بے گناہ نکلا تو۔۔۔” اس کالم میں کالم نگار کا موضوع سخن شاہد خاقان عباسی تھے۔ ان کے علم و ہنر کے حوالے سے کالم نگارنے زمیں آسمان کے قلابے ملا دیy۔ ان کی تکینکی مہارت کے حوالے سے جی بھر کے تعریفیں کیں۔ ان کی سادگی و پرکاری کا لاجواب نقشہ کھینچا۔  انکے خانوادے کے حوالے سے کیا کیا سنہری حروف لکھے۔ ان کے خاندان کی عظمت و حشمت کی بہت توصیف کی۔ جمہوریت کے لیے ان کی قربانیوں کا بارہا ذکر کیا۔  ان کی جیل یاترا اور سول سپریمیسی کے لیے قربانیوں کا نہایت محبت سے ذکر کیا۔ حتی کے انہیں مرد کوہستانی کے خطاب سے بھی نوازا ۔ لیکن پھر اس مرد کوہستانی کو اس کالم میں "بو بکرا ” جیسے قبیح لفظ اور کریہہ تشبیہ سے بھی نوازا۔ ایسا لفظ کسی بھی انسان کے بارے میں استعمال کرنا انسانیت کی توہین سا لگتا ہے لیکن استاد سے کون سوال کر سکتا ہے۔ اس تشبیہ کے پیچھے کیا رموز  تھے اس بارے میں کوئی حتمی رائے تو محترم کالم نگار ہی دے سکتے ہیں مگر اس طرح کی ترکیب  کسی سیاستدان کے بارے میں استعمال کرنا سہیل وڑائچ صاحب کا خاصہ نہیں ہے۔ کبھی ملاقات ہوئی تو ان سے پوچھیں گے کہ "استاد اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟

سہیل وڑائچ کالم لکھتے ہیں تو کہانی لگتی ہے۔ رمز، کنایہ ، تشبیہ، استعارے اور ابہام میں بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انکی تحریر کا آہنگ ، اسلوب اور انداز سب سے جدا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر آج تک کسی کے انداذ نگارش کو اپنانے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن آج کی تحریر سہیل وڑائچ صاحب کے انداز میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں اگر یہ کوشش آپ کو بھونڈی لگے تو اس میں سراسر قصور میرا ہے۔ استاد کے فن پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔

حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش خاتون کیسے پیدا ہوگی ۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ سر عام اس نظام کو چیلنج کر رہی ہوتی ہے۔ ہم لفظ لکھتے ہزار بار سوچتے ہیں مگر وہ بے باک ہو کر جلسہ گاہ میں سچ بول دیتی ہے۔ ہم مصلحت کا شکار ہوتے ہیں مگر وہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ وہ بہادر بھی ہے سرکش بھی اور بے باک بھی۔ اس میں حوصلہ بھی ہے ہمت بھی اور اسکو ذہن رسا بھی میسر ہے۔ یہ خاتون امید بھی ہے امنگ بھی۔ اس کے بدترین مخالف بھی اسکی دلیری کی تعریف کرتے ہیں۔ سب جماعتیں اسی سے حوصلہ پکڑتی ہیں۔ اسی سے سبق سیکھتی ہیں۔ اس کے مخالفین کو اسکے حوصلے سے ڈر لگتا ہے اسکی سچائی پر طیش آتا ہے مگر تمام تر مصائب کے باوجود یہ اپنی زبان کی پکی ہیں اور اپنے بیانیئے یہ چٹان کی طرح ڈٹی ہوئی ہیں۔

کوٹ لکھ پت جیل میں قید تنہائی میں پابند سلاسل یہ خاتون منہ میں سونے کا چمچہ لے پیدا ہوئی ۔ ان کے دادا  کا شمار اس ملک کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بزنس کی دنیا میں بس "اتفاق” کے نام کا چرچہ تھا۔ کہتے ہیں کے ان کے پاس اس زمانے میں اتنی دولت تھی کہ لند ن میں چار فلیٹ تو ایک طرف یہ آدھا لندن خرید سکتے تھے۔ جس خانوادے سے ان کا تعلق ہے وہ لحاظوں اور قدروں والا خاندان ہے۔  آج بھی وہاں لڑکیاں سر پر دوپٹہ لیتی ہیں اس کے باوجود اس خاتون کے خلاف  ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سوشل میڈیا پر مخالفین نے  وہ غلیظ ترین زبان استعال کی جس بیان بھی نہیں ہو سکتا ۔ ان کا تعلق اس گھرانے سے ہے آج بھی جہاں مہمان نوازی کی روایت ہے ، جہاں بزرگوں کے احترام کا سبق دیا جاتا ہے۔ سوچنا صرف اتنا ہے کہ یہ خاتون عام سے لباس میں کیوں جلسہ گاہ سے جلسہ گاہ پھر رہی ہیں۔ پندرہ پندرہ گھنٹوں کا سفر آخر کس لیئے کر رہی ہیں۔ یہ اگر چاہیں تو آج ہی اپنے والد کے ساتھ لند ن جا کر بھائیوں کے ساتھ پر تعیش زندگی گذار سکتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ایک بہتر ملک میں پرورش دے سکتی ہیں۔ اگر چاہیں تو جیل کی دیواریں آج ہی موم ہو جائیں۔ سب مسئلے ختم ہو جائیں۔ سب رستے کھل جائیں مگر پھر بھی یہ جیل میں قید تننہائی ہنسی خوشی کاٹ رہی ہیں۔

یہ وہی خاتون ہیں جن کے والد تین دفعہ اس مملکت خداد کے وزیر اعظم  رہے۔ انہوں نے عروج بھی دیکھا زوال بھی۔ انہوں نے ظلم بھی دیکھا اور محلاتی سازشیں بھی۔ دس سال کی بے وطنی بھی کاٹی اور اپنوں کو بدلتے بھی دیکھا۔ سہیل وڑائچ صاحب یہ وہی خاتون ہیں جنکے دادا کے انتقال کے بعد انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں ملی۔ یہ وہی خاتون ہیں جس کی والدہ کا انتقال اس وقت ہو گیا جب انہیں ایک ایسے جرم کی سزا سنائی ہوئی تھی جس کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ یہ وہی خاتون ہیں جو تمام تر امارت کے باوجود ٹوئیٹر پر اپنے والد کے بلڈ پریشر اور کمزور دل کی دھڑکنوں کے بارے میں تنہا  چیختی نظر آتی تھیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جس کی بستر مرگ پر والدہ کے ہسپتال میں مخالف سیاسی جماعت کے غنڈے اس لیئے گھس گئے کہ وہ تصدیق کر سکیں کہ مرحومہ کی کتنی سانسیں باقی ہیں۔ یہ وہی خاتون جنکے والد کے دل کا بائی پاس ہوا تو لوگوں نے اس پر ٹھٹھے لگائے۔ یہ وہی خاتون ہیں  جس کے بھائی کے لندن کے گھر کے باہر مخالف جماعت کے غنڈوں نے دروازے توڑ دیئے۔ یہ وہی خاتون ہیں جو یہ جانتے ہوئے لند ن سے واپس آئیں کہ اب گرفتاری انکا مقدر ہے۔ یہ وہی خاتون ہیں جنکو لندن واپسی سے اب تک دس دفعہ ڈیل کی آفر ہو چکی ہے۔ پر آسائش زندگی کی ترغیب دی جا چکی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ خاتون اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جو جیل میں اپنے مریض والد کا سہارا بنی ہوئی ہیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جو سول سپریمیسی کو جھنڈا بلند کیئے ہوئی ہیں۔

اس خاتون کے فیصلے نہ مصلحت پسند ہیں نہ ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہے۔ اس خاتون کے حوصلے کی  تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو  ان کے والد ہیں جو اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جو اب نہ اپنی زندگی کی پرواہ کر تے ہیں نہ موت سے انہیں ڈر لگتا ہے۔ اب وہ سب کچھ گنوا چکے ہیں اور کچھ گنوانے کا انہیں خوف نہیں رہا۔ اس خاتون کے حوصلے کی دوسری وجہ وہ عوام کی اکثریت ہے جو انکے ساتھ ہے جو بہت کچھ بدلنا چاہتی ہے مگر کچھ نہیں کر پاتی۔ اور تیسرا اس خاتون کے ہاتھ ایک ترپ کا پتہ آ گیا ہے جس سے سارا کھیل بگڑ سکتا ہے ۔ ساری بساط الٹ سکتی ہے۔ وہ اس راز کے سہارے اس نظام کو، سارے انصاف اور اس ساری صحافت کو چیلنج کرنے کے درپے ہیں۔

آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ آج کی کہانی ہے۔ کل جو ہونا ہے وہ ایک نیا روشن دن ہے۔ مصائب و الام کو جھیلتی، جیل میں قید یہ خاتون  اگر کل کو بے گناہ نکلی تو یہ اس سماج، اس نظام اور اس انصاف کے منہ پر ایسا زناٹے دار طمانچہ ہو گا جس کی آواز ہماری مسخ شدہ تاریخ کے ہر صفحے پر سنی جا سکے گی۔

متعلقہ مضامین