’شہید اہلکار کی قرضے کی پرچی‘

عظمت گل ۔ صحافی

’وہ نہایت دیانت دار انسان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بم دھماکے میں ان کی شہادت ہوئی تو ان کے گھر والوں نے مجھے کہا کہ ہمیں صرف شہید کا موبائل فون ملا ہے۔ اس کا دیگر سامان پولیس چوکی سے لے آئیں۔ اور جب اس کے کمرے میں سے سامان ڈھونڈا تو کپڑوں میں سے ایک پرچی ملی جس پر اس نے اپنے ذمے قرضے لکھ رکھ تھے۔ وہ پرچی دیکھ کر چوکی پر موجود پولیس اہلکار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔‘

یہ الفاظ ہیں لوئر دیر کے ایک پولیس کانسٹیبل حشمت ہاشمی کے، جن کے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں چار ستمبر کو سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے پولیس کی گاڑی تباہ ہوگئی جس میں ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ اور دیگر تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

زخمی اہلکاروں کو تیمر گرہ ہسپتال پہنچایا گیا مگر سیف اللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ کے یونیفارم سے نکلنے والی قرضے کے پرچی۔ تصویر: کانسٹیبل حشمت ہاشمی

حشمت ہاشمی نے پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ میرا بچپن کا دوست تھا اور کلاس فیلو بھی۔ ہم ساتھ ہی پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔‘

کانسٹبیل حشمت ہاشمی کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ کی دیانت داری مسلم تھی اور ہر ایک کے لیے وہ ایک نہایت خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھا۔

یکم اپریل 1989 کو دیر کے علاقے لقمان بانڈا خیل میں پیدا ہونے والے سیف اللہ نے دسمبر 2010 میں پولیس سروس جائن کی۔ انہوں نے سوگوران میں بیوہ، دو بچے اور ہزاروں چاہنے والے چھوڑے۔

’جب اس کی شہادت ہوئی تو تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا۔ ان کے گھر والوں نے بتایا کہ سیف اللہ کی میت کے ساتھ صرف اس کا موبائل فون لایا گیا تھا دیگر سامان اور ان کی نشانیاں پولیس چوکی پر ہی ہوں گی چونکہ آپ نے وہیں جانا ہے تو جو بھی چیزیں ہوں لے کر آئیے گا۔‘

حشمت ہاشمی نے کہا کہ سیف اللہ کے ذمے زیادہ تر قرضے ادا شدہ تھے تاہم وہ ان کے سامنے ادا شدہ لکھنا بھول گیا تھا یا اس کو اتنی مہلت نہ مل سکی۔ ’چوکی پر موجود دو پولیس اہلکاروں نے کہا کہ ہمیں اس نے قرض واپس کر دیا تھا۔ اور باقی اب ہمیں چاہیے نہیں۔‘

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں پولیس شہدا کی یادگار۔ فوٹو: پولیس ڈیپارٹمنٹ ویب سائٹ

سیف اللہ کے سامان سے برآمد ہونے والی پرچی میں اس نے 60 روپے کا قرض بھی لکھ رکھا تھا جو ساتھی اہلکار اعجاز الحق کا تھا۔ فرحان دکاندار کے تین سو روپے بھی واجب الادا تھے جو انہوں نے اب لینے سے انکار کر دیا ہے۔

’سب سے زیادہ قرض پانچ ہزار روپے لکھا تھا جس کے سامنے احمد زیب کا نام ہے۔ یہ شہید سیف اللہ کے کزن ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کو رقم واپس کی جا چکی تھی۔‘

آئی ای ڈی بلاسٹ سے گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گری۔ فوٹو: فیس بک

کانسٹبیبل حشمت ہاشمی نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ پرچی کے دوسری طرف بھی تین ہزار کی رقم لکھی تھی جس کو ’ہانڈی والی‘ کے زمرے میں درج کیا گیا تھا۔ (یہ وہ رقم ہوتی ہے جو پولیس اہلکار آپس میں خرچ ملا کر ایک ساتھ ہانڈی روٹی کرتے ہیں اور پھر ادائیگی کرتے ہیں۔)

30 سالہ سیف اللہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔

متعلقہ مضامین