ساڑھے تین لاکھ شامی مہاجر واپس

ترکی میں حکام کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ شامی پناہ گزین رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس چلے گئے ہیں تاہم عالمی ذرائع ابلاغ کا مہاجر نوجوانوں کے حوالے سے دعوی ہے کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔

دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق شامی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ترک حکام کے رویے سے تنگ آ کر وہ واپس اپنے ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شام کی خانہ جنگی سے متاثرہ 36 لاکھ افراد کو ترکی نے پناہ دی جن میں سے ایک لاکھ کو ترک شہریت بھی دی گئی۔

دنیا کے کسی بھی ملک میں شام کے پناہ گزینوں کی اتنی تعداد نہیں جتنی ترکی میں ہے۔

ہزاروں شامی پناہ گزینوں نے ترکی کے راستے یورپ جانے کی بھی کوشش کی ہے۔

متعلقہ مضامین