طالبان سے بات چیت ’مر‘ چکی ہے، صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان امن عمل کے لیے طالبان سے بات چیت یا مذاکرات کو مردہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے ہونے والی بات چیت اب میری طرف سے مکمل طور پر ختم ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان سے گفگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ طالبان کو امریکی شہر کیمپ ڈیوڈ بلانے کا خیال ان کا تھا اور اس حوالے سے کسی دوسرے سے مشورہ بھی نہیں کیا تھا۔ ’اس ملاقات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی میرا ہی تھا۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کو اس بنیاد پر منسوخ کر دیا کیونکہ طالبان نے وہ کچھ کیا تھا جو انھیں بالکل نہیں کرنا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طویل ترین مذاکرات ہوئے تاہم حتمی مرحلے کے دوران افغانستان میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی اور دارالحکومت کابل میں بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کابل میں مارے جانے والے امریکی فوجی کا خاص طور پر ذکر کیا۔

کابل میں طالبان کے حملے امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد آٹھ ستمبر کو امریکی صدر نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین