لائن آف کنٹرول پر دھرنا مگر کیوں؟

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہزاروں افراد نے کنٹرول لائن کی جانب مارچ کر کے راولاکوٹ سے آگے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا دیا ہے۔ اس احتجاجی مارچ اور دھرنے کے دوران پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش میں شیلنگ ار لاٹھی چارج بھی کیا گیا تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ اس کی خبر نہیں دے رہے۔

اس احتجاج اور دھرنے کے بارے میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اپنے خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا ہے۔

لاہور میں مقیم کشمیری صحافی فرحان احمد خان نے لکھا ہے کہ’میں نے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں اس لیول کے احتجاج ماضی قریب میں نہیں دیکھے۔ اس احتجاج کا مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے البتہ اس کی خبر شائع کی ہے۔‘

انہوں نے فیس بک پر ایک تفصیلی تحریر میں کہا ہے کہ ’اس وقت یہ ہزاروں لوگ تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ (ایل او سی) کے قریب دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ یہ مظاہرین کشمیر کی آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں اور بھارت کی حکومت کے 5 آگست 2019 کے اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔‘

صحافی سردار عابد خورشید نے لکھا ہے کہ ’اس وقت پاکستان کا میڈیا پنجاب پولیس کو ٹھیک کر رہا ہے اس لیے کشمیر میں ہونے والے اس احتجاج کا مکمل بلیک آؤٹ ہے۔‘

کشمیری صحافی دانش ارشاد نے بھی اس صورتحال پر اظہار خیال کیا ہے۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’لائن آف کنٹرول توڑنے کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک دونوں اطراف سے ایک ہی وقت میں کوشش نہ کی جائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یکطرفہ کوئی بھی کوشش (جتنے خلوص سے کی جائے) وقت کے ضیاع۔سیاسی مقاصد کے حصول اور انسانی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔‘

دانش ارشاد کے مطابق ’5 اگست کے بعد ابتک لائن آف کنٹرول کی جانب آدھ درجن کے لگ بھگ مارچ ہو چکے ہیں لیکن کسی کو خاطر خواہ میڈیا کوریج تک نہ مل سکی حتی کہ صحافیوں کے احتجاجی مارچ کو کچھ مقامی اخبارات کے سوا کوئی کوریج نہ مل سکی. (سوشل میڈیا پر عوام نے بہترین انداز میں ان احتجاجوں کو ہائی لائٹ کیا)۔‘

ان کا کہنا ہے کہ کسی کےلاکھ اعتراضات ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاحال تحریک کا مرکز وادی ہی ہے اس لئے جب تک اس طرف سے لائن آف کنٹرول کی طرف آنے کی کوشش نہ کی جائے یکطرفہ کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی۔

سوشل میڈیا پر زیادہ تر کشمیری صحافیوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو اس احتجاج کے بلیک آؤٹ کے لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس کو آرگنائز کرنے والے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے لوگ ہیں جو مکمل آزادی کی بات کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین