جسٹس فائز کے خلاف کارروائی روک دی

رضوان عارف ۔ صحافی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ازخود نوٹس نہ لینا زیادہ بہتر اور مفید ہے۔ ازخود نوٹس لینے کے معاملے پر قواعد کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس نے خطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کا نام لیے بغیر ان کے خلاف بھجوائے گئے صدارتی ریفرنسز کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ریفرنس پر سپریم جیوڈیشئل کونسل نے کارروائی روک دی ہے۔

کارروائی اسی معاملے پر سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کرنے کے سبب روکی گئی۔

 چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو ناخوشگوار فرہضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی تاہم صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔

چیف جسٹس نے نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ وہ اچھی طرح آگاہ ہیں سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہے۔ یہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیویزم پر تنقید کرتا تھا۔

”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سو موٹو پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے۔ معاشرے کا ایک طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر سو موٹو لینے کو سراہتا ہے۔“

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ”اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ سوموٹو کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا۔ جو کسی کے مطالبے پر لیا گیا وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا۔ جب ضروری ہوا یہ عدالت سو موٹو نوٹس لے گی۔“

چیف جسٹس کا کہنا تھا ”جوڈیشل ایکٹیویزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعل جوڈیشلیزم کو فروغ دے رہی ہے، اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔“

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 1.81 ملین تھی۔

”لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہوکر 1.78 ملین ہوگئی ہےگزشتہ سال سپریم کورٹ میں 19 ہزار 751 مقدمات کا اندراج ہوا۔“

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال عدالت عظمیٰ نے 57 ہزار 684 مقدمات نمٹائے۔ دنیا بھر کی سپریم کورٹ میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کروایا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ای کورٹ سسٹم کے ذریعے سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اور تمام رجسٹریاں ویڈیو لنک کے ذریعے منسلک ہوئیں۔ امریکہ میں سول ججز کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس دنیا کا مستقبل ہے۔

ان کا کہنا تھا ”از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک مسودہ تیار کر لیا جائے گا۔ اس مسئلے کو بھی ایک دفعہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا۔“

متعلقہ مضامین