چیف جسٹس کو آوازیں دبانے پر تشویش

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر حکومت سے اختلاف کرنے والی آوازوں کو دبانے کی خبروں کو پریشان کن قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس نے نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس بات کی گواہی سب دیں گے کہ آوازیں اور رائے دبانے سے فرسٹریشن جنم لیتی ہے جس سے معاشرے میں بے سکونی پھیتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق پر قلیل المدتی سیاسی فوائد کے لئے سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت میں طویل المدتی سوچ، برداشت ہونا ضروری ہے، جس کے بغیر آمریت جنم لیتی ہے۔

’قلیل مدت کے سیاسی فائدے کے لیے آئینی حقوق پر سمجھوتہ کرنا درست نہیں ہے۔ جمہوریت میں اختلاف اور برداشت کے بغیر جبرکا نظام قائم ہوجاتا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم بطور ادارہ اس تاثر کو کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینیئرنگ ہے بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس تاثر کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے اور بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے جبری نظام جنم لیتا ہے۔

میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون ساز عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں مگر بدقسمتی سے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ ادارہ جاتی مذاکرات کی تجویز پر بھی غور نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین