دوحا سے فرار

مذاکرات کا نواں دور شروع ہونے سے کچھ ہی قبل طالبان امیر ملا ہیبت اللہ کے بھائی کو قتل کروانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے سینہ کوبی کرتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مذاکرات کے آخری مراحل میں اس درجہ ہائی ویلیو ٹارگٹ کو صدر کی منظوری کے بغیر نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ امریکیوں کو یقین رہا ہوگا کہ یہ اقدام طالبان کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردے گا، جس سے نظر تو وہ امن گریز قوت کے طور پر آئیں گے جبکہ ضرورت امریکہ کی پوری ہوجائے گی۔ مگر طالبان نے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار نہ کرکے ان کی یہ چال ناکام بنادی۔ چنانچہ فرار کی یہ راہ خود امریکیوں کو ہی اختیار کرنی پڑی۔ اور اس کے لئے طالبان کے کابل میں سی آئی اے پر کئے گئے کاری وار کو جواز بنایا گیا۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جواز بھی ایک مضحکہ ہے۔ آپ مذاکرات کے اس پورے عرصے کے دوران افغانستان میں ہونے والے ملٹری ایکشنز کا آڈٹ کر لیجئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹس سے یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے اس پورے عرصے کے دوران وہاں بارود پر برف جمی رہی ہو، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ طالبان اور امریکہ دونوں ہی عسکری کارروائیاں جاری رکھے رہے۔ امریکی بار بار سیز فائر کی بات ضرور کرتے رہے۔ مگر جواب میں طالبان کا موقف یہ رہا کہ سیز فائر اس معاہدے کے پیکج کا حصہ ہوگا جس میں امریکی انخلاء کا واضح اور قابل قبول روڈ میپ ہوگا۔ اگر طالبان مذاکرات کے نتیجہ خیز بننے سے قبل سیز فائر کردیتے تو یہ مذاکرات سالوں پر محیط ہوجاتے۔ امریکی مذاکرات کو طول دئیے رکھتے کہ سیز فائر کی صورت انہیں افغانستان میں "محفوظ قیام” جو میسر آجاتا۔

خوابوں کی دنیا میں رہنے والے بعض احمقوں کا خیال ہے کہ طالبان نے امن کا ایک اہم موقع گنوا دیا ہے۔ احمقوں کی یہ قسم جب کرکٹ میچ میں اپنی ٹیم کو ہارتا دیکھتی ہے تو بار بار آسمان کو دیکھنا شروع کردیتی ہے۔ یہ آسمان میں خدا نہیں بادل تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ افغانستان کے اس میچ میں بھی امریکیوں کے لئے سیز فائر کا بادل ڈھونڈتے رہے۔ وہ بادل آنے تھے اور نہ ہی آئے۔ فغانستان میں امریکہ 44 ممالک سے جمع کرکے ایک لاکھ بیس ہزار فوج لایا تھا۔ چھ سال ہوئے ایک ایک کرکے سب فرار ہوئے۔ پیچھے امریکہ تنہا رہ گیا ہے اور وہ بھی چند ہزار فوجیوں کے ساتھ، جن کے لئے وہ شدت سے "سیز فائر” کا متمنی ہے۔ امریکہ کے دکھ شریک دیسی لبرلز کہتے ہیں، مذاکرات میں گیو اینڈ ٹیک ہوتا ہے، طالبان کو غیر لچکدار رویہ ختم کرکے امریکیوں کو کچھ نہ کچھ دینا ہوگا۔ ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ ہارنے والی ٹیم کو واپسی کے ٹکٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ مذاکرات طالبان کی خواہش پر نہیں بلکہ امریکہ کی دس سالہ منتوں ترلوں کے نتیجے میں ہوئے۔ اگر پاکستان اصرار نہ کرتا تو طالبان مذاکرات کی میز پر آتے ؟ ان کے خیال میں ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ مذاکرات کئے جاتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ہاتھی کو مرچوں کی مزید دھونی درکار ہے۔ طالبان خانہ بدوش ضرور ہیں مگر اتنے بیوقوف نہیں کہ میدان میں جیتی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دیں۔ جس لمحے احمق یہ لکھ رہے تھے کہ طالبان پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے مستقل قیام پر راضی ہوچکے ہیں۔ اسی لمحے طالبان امریکیوں سے کہہ رہے تھے کہ صرف فوجی نہیں بلکہ مکمل سفارتی انخلا بھی کرنا ہوگا۔ تمام غیر ملکی سفارتکاروں کو نکلنا ہوگا۔ اور بین الافغان بات چیت کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو از سرنو سفارتی درخواستیں دینی ہوں گی۔ جس سفیر یا سفارتکار کی منظوری نئی افغان حکومت دے گی وہی افغانستان آئے گا۔ اپنی اس شرط کے ذریعے طالبان نے سی آئی اے، ایم آئی سکس اور بھارت کی را جیسی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی گردن ناپی ہے، جو مختلف ممالک میں اپنے ریمنڈ ڈیوس سفارتکاروں کے روپ میں رکھتی ہیں۔

خوابوں کی دنیا میں رہنے والے افغانستان میں امریکہ تو کیا بھارتی مفادات کے لئے بھی دلیلیں تراش رہے ہیں، فرماتے ہیں، بھارت کی وہاں تین ارب ڈالرز کی انویسٹمنٹ ہے۔ اب یہ بھی انہیں ہم ہی سمجھائیں گے کہ انویسٹمنٹ تو امریکہ نے بھی ٹریلین ڈالرز کی کر رکھی ہے مگر جن سے لڑ رہا تھا انہی سے امن مانگنے پر مجبور ہے کہ نہیں ؟ اپنے ہی گوانتانامو بے کے قیدیوں مذاکرات پر مجبور ہوا یا نہیں ؟ فرماتے ہیں، بھارت میں 12 ہزار افغان طلبہ زیر تعلیم ہیں، لھذا بھارت افغانستان میں ایک حقیقت ہے۔ اگر بیرون ملک موجود افغانوں کی کیلکولیشن کا ہی سہارا لینا ہے تو پھر ذرا ان افغانوں کو بھی گن لیجئے جو پاکستان میں صرف پڑھ نہیں رہے بلکہ اربوں کا بزنس بھی کر رہے ہیں۔ جتنے آپ کو بھارت کی درسگاہوں میں نظر آ رہے ہیں۔ اس سے دس گنا زیادہ تو بلوچستان کے صرف ایک ضلع میں موجود ہیں۔ فرماتے ہیں، نئی افغان نسل پڑھ لکھ گئی ہے جو جنگ سے نفرت کرتی ہے لھذا طالبان سے بھی نفرت کرتی ہے۔ پڑھا لکھا امریکیوں، برطانویوں، فرانسیسیوں، جرمنوں اور جاپانیوں سے زیادہ کو کون ہوگا ؟ پچھلے 100 سال کی سب سے مہلک جنگیں انہوں نے ہی لڑیں کہ نہیں ؟ کون انکار کرسکتا ہے کہ جتنی تعلیم نے ترقی کی اتنی ہی جنگیں مہلک ہوتی گئیں ! پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو یہ کس نے بتایا کہ نائن الیون سے قبل افغان ناخواندہ تھے ؟ ذرا 70 کی دہائی سے پیچھے والے افغانستان کی تعلیم کا ڈیٹا تو نکال دیکھا ہوتا۔ اور ایک نظر اس ناقابل تردید حقیقت پر بھی ڈالی ہوتی کہ 70 کی دہائی کے اختتام پر شروع ہونے والے جہاد کا آغاز کسی مدرسے سے نہیں بلکہ کابل اور جلال آباد کی یونیورسٹیوں سے ہی ہوا تھا۔ سات جہادی تنظیموں میں سے صرف دو مولویوں کی باقی سب پروفیسروں کی تھیں۔ احمد شاہ مسعود اور حکمت یار کابل یونیورسٹی سے ہی اٹھے تھے۔ امن سے زیادہ مطلوب شئی انسان کے لئے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی مگر اس کی تلاش کے لئے اپنے مقدمے کی بنیاد احمقانہ دعووں پر رکھنا دانشمندی نہیں حماقت ہی کہلائے گا۔ یہ طے سمجھئے کہ افغانستان میں امن کا راستہ دہلی نہیں اسلام آباد سے ہوکر گزرتا ہے۔ امریکہ اسی دعوے کے ساتھ وہاں آیا تھا کہ امن لاؤں گا۔ لاسکا ؟ دیوار پر لکھی اس سچائی کو کوئی اندھا ہی نہ پڑھ پا رہا ہوگا کہ امریکہ آیا اس دعوے کے ساتھ تھا کہ افغانوں کو امن دوں گا۔ اور آج بیس سال بعد مانگ اپنے لئے امن رہا ہے۔ افغان امور کی تجزیہ کاری بہت پرکشش، مگر جو افغان ڈیلی گیشن کا قائد ملا ذبیح اللہ مجاہد کو لکھ رہے ہیں وہ افغان امور کا خاک درست تجزیہ کر پائیں گے ؟ اور یہ خاک سمجھ پائیں گے جو دوحہ سے فرار ہوئے ہیں وہ سائیگون اور موغادیشو سے بھی فرار کی تاریخ رکھتے ہیں ؟ مذاکرات ان کے لئے واحد باعزت راستہ ہے ورنہ افغانستان کا کابل ان کے لئے ویتنام کا سائیگون بن سکتا ہے۔ وہی سائیگون جہاں قائم اپنے سفارتخانے کی چھت سے یہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فرار ہوئے تھے !

متعلقہ مضامین