’پاکستانی صدر اور الیکشن کمشنر مدمقابل‘

پاکستان کے صدر عارف علوی اور ملک کے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان ایک آئینی معاملے پر آمنے سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد جہاں حکومت کی جانب سے میڈیا کو یہ خبریں فیڈ کی جا رہی ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے وہیں الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ صدر غیر آئینی اقدام کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دو نئے ارکان کی تعیناتی کے نوٹی فیکیشن پر اعتراض کیا تھا اور ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کے لیے دو ارکان کی تعیناتی کی گئی تھی۔ صوبہ سندھ کے لیے خالد محمود صدیقی جبکہ بلوچستان کے لیے منیر کاکڑ کو تعینات کیا گیا تھا جس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو ارکان کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر میں آئینی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس بارے میں وزارقانون اور پارلیمانی امور سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

کے لیے آئینی حدود کو مدنظر رکھا گیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں تمام معاملات پر متعقلہ حکام سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے۔

عدالت کے نوٹس پر چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے جواب جمع کراتے ہوئے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی الیکشن کمیشن میں دو ارکان کی تعیناتی غیر آئینی ہے اور ان دونوں ارکان کی تعیناتی میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

خیال رہے کہ آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد نئے طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے مابین مشاورت کے بعد ہوتی ہے اور ان کی ناکامی کی صورت میں اس حوالے سے قائم پارلیمانی کمیٹی ناموں پر غور کے بعد منظوری دیتی ہے تاہم اس بار حکومت نے اپوزیشن سے اتفاق نہ ہونے پر صدر مملکت سے اپنے نامزد کردہ افراد کے ناموں کا نوٹی فیکیشن جاری کرایا ہے۔ اس ضمن میں قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے پایا گیا۔

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان اعلیٰ عدلیہ سے ریٹائرڈ جج ہیں جبکہ بطور چیف الیکشن کمشنر ان کو ہٹانے کے لیے آئین میں دیے گئے طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا جس کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں ضابطے کی خلاف ورزی کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین