’کنٹرول لائن پار کرنے کے لیے انتظار کریں‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانی کشمیر کے نوجوان انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں داخل ہونے کے لیے کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن اس کے لیے ان کو انتظار کرنا ہوگا۔

جمعے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ‘پہلے مجھے کشمیر کا کیس دنیا کو بتانے دو، جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر بات کرنے دو، اس کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ ایل او سی (لائن آف کنٹرول) کی طرف کب جانا ہے۔’

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ‘خود مختار کشمیر’ کے حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ایک دھڑے کے کارکنوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر تیتری نوٹ کراسنگ کی جانب مارچ کیا تھا۔

پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان پر خودمختار کشمیر کے حامی حلقوں نے تنقید کی ہے جبکہ بعض کشمیری دانش وروں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ عمران خان کیسے اور کس حیثیت میں یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کنٹرول لائن کی طرف کب جانا ہے۔

 مظفر آباد جلسے کے لیے تحریک انصاف نے پورے ملک سے اہم شخصیات کو خصوصی طور پر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جلسہ گاہ پنچایا تھا جن میں سابق کرکٹر شاہد آفریدی، گلوکار فاخر، شہزاد رائے اور اداکار جاوید شیخ شامل تھے۔

ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے بھی تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکن مظفرآباد جلسے میں شرکت کے لیے لائے گئے تھے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’بطور سفیر کشمیر دنیا بھر میں جاؤں گا اور کشمیر کا معاملہ اٹھاؤں گا۔ میں نے جب دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ میں ایک پاکستانی، ایک مسلمان اور ایک انسان ہوں، کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40 دنوں سے ہمارے کشمیری، بھائی، بہنیں اور بچے جیل میں قید ہیں۔’

عمران خان نے کہا کہ وہ خاص طور پر نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ’ایک بزدل انسان صرف ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر انڈیا کی فوج کر رہی ہے، مودی جس میں انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا، بہادر انسان کبھی بھی عورتوں اور بچوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘

عمران خان نے کہا کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی جتنا مرضی ظلم کر لیں کامیاب نہیں ہو گے کیونکہ کشمیر کے عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ انڈیا کے وزیر اعظم مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں اور یہ وہ جماعت ہے جس کے اندر مسلمانوں کے لیے نفرت بھری ہوئی ہے، اس جماعت کے بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ انڈیا صرف ہندوؤں کے لیے ہے، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کے 58 ممالک نے پاکستانی مؤقف کی تائید کی کہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، 50 سال میں پہلی بار کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھا، او آئی سی نے بھی انڈیا سے اپنے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین