’کرپشن پر نئے قوانین لاگو ہوں گے‘

پاکستان کے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت کرپشن کے مقدمات اور سزایافتہ قیدیوں کے لیے قوانین میں ترمیم کر رہی ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ایسی ترمیم لا رہے ہیں جس سے 50 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کے مقدمے میں ملوث ملزم کو جیل میں سی کلاس ملے گی۔ اس قانون کے تحت سابق افسر یا سیاستدان سمیت سب کو عام قیدی کی طرح ہی رکھا جائے گا۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فروغ نسیم نے قوانین میں کی جانے والی تبدیلیوں کی تفصیلات بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ملک میں رائج دیوانی، جائیداد، شہادتوں کی ریکارڈنگ سمیت مختلف قوانین میں اہم تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا ہے کہ دیوانی مقدمات کو اب ڈیڑھ سے دو سال کے اندر نمٹانے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث حکومت شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کے نظام میں بھی تبدیلی لا رہی ہے۔

’نئے نظام کے تحت اب ریٹائرڈ ججوں اور وکلا کا پینل تشکیل دے کر شہادتوں کو ریکارڈ کیا جائے گا۔ پینل شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی مدد بھی لے گا۔‘

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرز پر دیگر عدالتیں بھی ویڈیو لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت کریں تو اس سے اخراجات میں کمی آئے گی۔

فروغ نسیم نے بتایا کہ وسل بلور قانون کو بے نامی جائیدادوں کے قانون سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین