سپریم کورٹ سے امریکی تعاون

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ پہلی بار کمپیوٹر اور موبائل فون کے استعمال نے ان کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا مگر آج عدالت کو بھی ای کورٹ بنا دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی نئی ویب سائیٹ، ویڈیو لنک اور ریسرچ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مدرسہ، اسکول سمیت جہاں بھی تعلیم دی جاتی ہے جدید ٹیکنالوجی نہ ہو تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1991 میں جب ان کی بیٹی سکول گئی اور بتایا کہ اسے کمپیوٹر سکھایا جارہا ہے تو اس پر حیرت ہوئی اور پھر گھر پر کمپیوٹر خریدا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب پہلا موبائل لیا تو بہت حیران کن لگا۔ ”آج ہم نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے۔ ماڈل کورٹس نے ہمارے عدالتی نظام میں نئی تبدیلی لائی ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ ماڈل کورٹس کے بعد ہم نے ای کورٹ کا آغاز کیا۔ ای کورٹ سے ملک کی کسی بھی برانچ رجسٹریز سے وکلا دلائل دے سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پیسے اور وقت کی بچت ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ چار اضلاع کی ماڈل کورٹس کی کارروائی ہم نے براہ راست سپریم کورٹ میں دیکھی۔ ملک کے شعبہ انصاف میں خاموش انقلاب آ رہا ہے۔ “لاہور کے ایک وکیل کو ایمرجنسی میں پشاور جانا پڑا، ویڈیو لنک کے ذریعے پشاور سے ہی دلائل سنے گئے۔“

ان کا کہنا تھا کہ ججز کے پاس اب خود ریسرچ کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ جدید ریسرچ سنٹر اب ججز کو معاونت فراہم کرے گا۔

”آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم سے ججز کو عدالتی مثالیں ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔ سسٹم سے ججز کو سمجھ آجائے گی کن حقائق پر ماضی میں کیا فیصلے ہوئے۔ ”نادرا کے تعاون کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن نہیں تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے بھی پاکستانی عدلیہ کیساتھ بہت تعاون کیا۔“

چیف جسٹس نے کہا کہ ریسرچ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس سے ملک کے کسی کونے میں بیٹھ کر معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس ذہین ججز ہیں پھر بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اہم کردار ادا کرے گی۔

متعلقہ مضامین