وزیراعظم کی تقریراور رائے!

عبدالجبارناصر


سب پہلے تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ زبانی تقریر میں کوئی غلطی نہیں ہوئی، جس کا بہت زیادہ امکان رہتا ہے۔
تقریر جذبات سے بھرپور تھی، آخری دو پوائنٹ قابل تحسین، امت اورپاکستان کی ترجمانی ہے۔ اسلام کے حوالے سے گفتگو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔


ابتدائی دو نکات بالخصوص ملکی سیاست پر گفتگو غیر ضروری اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔
ملکی سیاسی نکات کو اس فورم میں تقریر کا حصہ نہ بناتے توآج مخالفین کے پاس بولنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا اور یہ تقریر نور علی نور تھی، شاید ان نکات کو شامل کرنے کا مقصد اپنے حامیوں کو مطمئن کرنا ہے۔


خلاصہ یہ ہے کہ عموعی طور پر تقریر خوب (آخری دو نکات ) تھی۔ باقی ان جذبات کا دنیا کیا تاثر لے گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

چند قابل توجہ باتیں یہ بھی ہیں کہ
خان صاحب نے تقریر میں کشمیریوں کو کوئی واضح پیغام نہیں دیا کہ اب انہیں کیا کرنا چاہئے، جس کا اعلان انہوں نےمظفرآباد کی تقریر میں کیا تھا۔
تقریر میں بار بار 80 لاکھ کے عدد(غالباً مراد صرف وادی کشمیر ہے اور ممکن ہےکہ جموں، کرگل، لداخ اور لہہ کو کشمیر سے الگ سمجھا جا رہے ہوں) اور صرف کشمیری مسلمانوں کا ذکر بھی تحریک آزادی کشمیر کی 100 سالہ جدو جہد اورموقف کے خلاف ہے۔
پاکستان کشمیر کا وکیل ہے اور وکیل کو پوری ریاست کی بات کرنی چاہئے۔مقبوضہ کشمیر میں مسلم غیر مسلم کی کوئی لڑائی نہیں ہے ، وہاں مشترکہ آزادی کی تحریک ہے۔

ریاست مقبوضہ جموں و کشمیرمیں تقریباً 65 فیصد مسلمان اور 35 دیگر ہیں اور مقبوضہ کشمیر صرف وادی کا نام نہیں ہے بلکہ وادی کشمیر، جموں، لداخ ، کرگل اور لہہ بھی مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہیں۔
ریاست کے دو حصے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہیں اورغیر آباد ایک بڑا علاقہ چین کے زیر انتظام ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی آبادی 80 لاکھ نہیں بلکہ ایک کروڑ 30 لاکھ ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی تقریباً 60 لاکھ ہے۔
بھارت کی 70 سال سے یہ کوشش رہی ہے کہ وادی کشمیر کو ریاست کے باقی علاقوں سے الگ کیا جائے۔ ہمیں بھارت کی اس سازش کو بھی ناکام بناناہے۔

متعلقہ مضامین