عمرقید 25 سال نہیں مگر

رپورٹ: ج ع

پاکستان کی سپریم کورٹ قیدیوں کی عمر قید کی سزا میں مدت کا تعین نہ کر سکی تاہم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے عمر قید کو 25 سال سمجھنا درست نہیں اور یہ صرف عدالت کا اختیار ہے کہ ہر قیدی کی عمر قید کے وقت کا تعین کرے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر کے سامنے عمر قید کی سزا کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ ہماری جیلوں میں قیدیوں کو پانی والی دال دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ پانی والی دال کھانے کے بارے میں قتل کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے، رحمدلی کا معاملہ الگ بات ہے سپریم کورٹ نے قانون دیکھنا ہے۔

عمر قید کی سزا پچیس سال یا تاحیات؟ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت پاکستان بار کونسل کے وکیل احسن بھون اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ پاکستان بار کونسل کے وکیل احسن بھون نے کہاپاکستان بار کونسل کا اس مقدمے سے متعلق اسٹیک ہے، پاکستان بار کونسل اس مقدمے میں فریق بننا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کیا پاکستان بار کونسل کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے، تیاری کرکے آئیں ہم آپ کو سن لیں گے، یہ مفاد عامہ کا مقدمہ ہے، جیلوں میں ہزاروں لوگ عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا درخواست گزار ہارون الرشید کے وکیل زوالفقار ملوکا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کے موکل کیخلاف دو مقدمات درج ہوئے، پہلا مقدمہ 1997 میں جبکہ دوسرا مقدمہ 1998 میں درج ہوا،ایک مقدمے میں آپ کے موکل کی نظر ثانی درخواست بھی خارج ہوچکی ہے، نظر ثانی درخواست خارج ہونے کے بعد مقدمے کو متفرق درخواست کے زریعے دوبارہ نہیں سن سکتے، نظر ثانی کی درخواست خارج ہونے کے بعد عدالتی فورم سے متعلق قانون طے شدہ ہے، نظر ثانی درخواست خارج ہونے کے بعد ری وزٹ کا فورم بچتا ہے، کسی مقدمے کا دوبارہ جائزہ لینے کیلئے ری وزٹ کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو حاصل ہے، سپریم کورٹ ری وزٹ کسی درخواست کے زریعے نہیں بلکہ اپنی صوابدید کے تحت کرتی ہے، ہم طے شدہ دائرہ اختیار سماعت کو خراب نہیں کریں گے، نظر ثانی کے بعد ری وزٹ سے متعلق چار عدالتی فیصلے موجود ہیں، آپ کے موکل کی طرف سے دوسرے مقدمے میں اپیل خارج ہونے کے بعد نظرثانی نہیں دائر کی گئی،اپیل پر فیصلہ کب سنایا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا میرے موکل کی دوسری اپیل سن دو ہزار ایک میں خارج ہوئی. چیف جسٹس نے کہا نظرثانی درخواست دائر ہونے کی صورت میں اٹھارہ سال زائد المیعاد کے معاملے کو بھی دیکھنا ہوگا، میں رات کو بھی ایک مقدمے سے متعلق ریکارڈ دیکھتا رہا،رات کو میں تین بجے سویا ہوں،چھ ممالک نے عمر قید سے متعلق قانون طے کر رکھا ہے،عمر قید سے متعلق برطانیہ، نیوزی لینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا کے فیصلے موجود ہیں،عمر قید کے تعین سے متعلق براہ راست سپریم کورٹ میں کوئی مقدمہ زیر سماعت نہیں ہے،فوجداری مقدمات میں اکھٹی سزا کاٹنے کا لکھ دیا جاتا ہے،اکھٹی سزا کاٹنے سے قبل یہ تعین کرنا ہوگا عمر قید کی سزا کتنی ہے،اس مقدمے سے متعلق ہم نے بڑی محنت کی ہے.پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہاہمارے جیسے ایک غریب ملک کی مثال بھی موجود ہے،زمبابوے میں عمر قید کی سزا تاحیات طے کی گئی،زمبابوے میں تاحیات عمر قید کی سزا کے تعین سے جیل میں غذا اور ادویات کی قلت ہوگئی،بعد میں زمبابوے کی عدالت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جیل مینول میں لکھا گیا کہ عمر قید کی سزا پچیس سال ہے،جیل مینول کو جیل کے امور چلانے کیلئے ہوتا ہے،جیل مینول کو مدنظر رکھتے ہوئے ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم نہیں کی جاسکتی،بھارت میں شیری ہرن سمیت چار مقدمات میں قانون طے کیا گیا،بھارتی عدالت نے فیصلہ دیا عمر قید کی سزا کتنی ہوگی یہ تعین کرنا ہر مقدمے میں عدالت کا کام ہے،بھارت نے کہا عمر قید کی سزا کا تعین عدلیہ کا اختیار ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہاہماری جیلوں میں قیدیوں کو پانی والی دال دی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےپانی والی دال کھانے کی بات قتل کرنے سے پہلے سوچنی چاہیے، رحم دلی الگ بات ہے قانون الگ معاملہ ہے،ہم نے قانون کو دیکھنا ہے،میں نے اس مقدمے کو سننے کیلئے دو ہفتے رکھتے تھے، ہم نے سوچا تھا اس مقدمے کو طے کریں گے۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔

چیف جسٹس نے کہا درخواست گزار نظرثانی دائر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین