بچوں سے زیادتی، پولیس کے تین اہلکار عدالت سے فرار

اسلام آباد پولیس کے تین اہلکار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے اس وقت فرار ہوگئے جب سکولز، کالجز کے نوعمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں ان کی ضمانتیں خارج کی گئیں۔

عدالت میں موجود اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے اپنے ہم پیشہ ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش نہ کی جس کی وجہ سے پولیس اہلکار صہیب ستی، شاہ زیب ستی اور حماد ملک آسانی سے فرار ہوگئے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل شہزاد کو سکول کالجز کے طلبہ سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے دیگر تین ساتھی پولیس ملزمان نے عبوری ضمانتیں کرا لی تھیں۔

اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیے گئے مقدمے میں پولیس حکام نے ملزم کانسٹیبل شہزاد کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے تین ساتھی ملزمان کی ضمانتیں ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد باسط علیم نے مسترد کیں۔

ایڈوکیٹ عمر علی ستی اور سردار خضر ایڈووکیٹ نے مدعی کی جانب سے دلائل دیے۔ فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد باسط علیم نے تینوں ملزمان کی ضمانتیں خارج کیں۔

مقدمے کا ایک ملزم شہزاد پہلے ہی ضمانت خارج ہونے پر اڈیالہ جیل میں قید ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار شہزاد پر یہ الزام ہے کہ اس نے سکول کالجز کے معصوم طلبہ کو دوستی کے بہانے ورغلا اور بعد ازاں اپنے فلیٹ پر ڈرا کر جنسی زیادتی کی۔

متعلقہ مضامین