آکسفورڈ کا انگوٹھا چھاپ اور نظام کی ماں بہن

مطیع اللہ جان

کون زیادہ برا ہے، ملک کے سیاسی نظام کی ماں بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے یا ایسا کرنے والوں کو ماں بہن کی گالیاں دینے والے؟ آج بھی آئینی جمہوری نظام کی ماں اور بہن کی عزت پر ہاتھ ڈلا ہے۔ کیا اس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے فقہ حلفیہ کے آئینی عہدیداران ایک غیرت سے عاری بیٹے اور بھائی کی مانند زبان بھی نہ کھولیں گے اور اپنا منہ دوسری طرف کر لیں گے؟ غیرت کے نام پر قتل جرم ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئین کی چادر اور چار دیواری کی پامالی پر بے غیرتوں کی طرح خاموشی اختیار کر لی جائے- مملکت خداداد پاکستان میں فقہ حلفیہ کے منحرف کچھ عہدیداران نے اپنی بدمعاشیانہ کاروائیوں اور کچھ نے بزدلانہ خاموشی و پہلو تہی سے سیاسی نظام کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ غیرت اور بے غیرتی میں فرق ہی محسوس نہیں ہو تا- گذشتہ چھ سال کے دوران چند سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں اور جرنلسٹوں نے اپنے ہاتھوں سے نسبتا سگے جمہوری نظام کا گلا گھونٹا، اپنی آنکھوں سے اس کا تماشا دیکھا اور گونگے بہرے بن گئے- آج انہی لوگوں نے اپنی منہ بولی جمہوریت کی عصمت دری پر بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ تو اجتماع کا حصہ ہیں- ان سب کی نوکریاں تو بچی ہوئی ہیں مگر ان کے پیشے ان کے آئینی، قانونی اور اخلاقی حلف کے ساتھ دفن ہو چکے ہیں- کسی نے آواز اٹھائی تو مکھن کے بال کی مانند اپنے ہی ہم پیشہ لوگوں کے ذریعے باہر نکال پھینکا گیا۔

کسی دور میں اپنی نئی جوتی کی کاٹ کا بھی شکوہ کرنے والی جمہوریت کی شہزادی آج ننگے پاؤں سڑکوں پر دھول چاٹ رہی ہے- کہاں آمریت کے کارندے چھپ کر وار کرتے تھے اور کہاں اب جمہوریت کے داعی خود ہی چھپتے پھرتے ہیں- قائد اعظم کے سرکاری پورٹریٹ اور مولوی تمیزالدین کی قانونی جدوجہد کی وارث جمہوریت کا سفر بنا سمت و منزل جاری ہے- جناح کیپ سے شروع ہوکر جرنیلوں کی پی کیپ تک کا ٹوپی ڈرامہ تہتر سال پر محیط تھا- اس دوران ملک ٹوٹ گیا، ایک وزیر اعظم کا عدالتی قتل ہو گیا، قوم نے دس دس سال آمر جرنیلوں کو بھگتا، دس سال جمہوری حکومتوں کا تسلسل آیا اور مارشل لا کے خلاف متفقہ آئینی ترامیم کے بعد ہماری قوم ایک ایسے شرمناک مقام پر آن پہنچی ہے کہ ایک آرمی چیف کو برطرف کرنا تو درکنار اس کو بروقت ریٹائر کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے- حیف ہے ہم پر- کہاں ایک فیلڈ مارشل اور آمر جرنیل کو اپنی مدت عہدہ اور اس سے جڑی مدت حکومت میں از خود توسیع کر نی پڑتی تھی اور کہاں اب اس کام کے لئیے بھی ایک وزیر اعظم کو ملازم رکھ لیا گیا ہے- پہلے حکومت ملازم رکھتی یا فارغ کرتی تھی اور اب ملازم حکومتوں کو رکھتے یا فارغ کرتے ہیں- پہلے ادوار میں اپنی مدت ملازمت اور اس سے جڑی حکومت میں از خود توسیع کرنے والا غاصب اور آمر قرار پاتا رہا اور کہاں ایک جرنیل اپنی مدت “ملازمت” میں توسیع پر ایک سلیکٹڈ “وزیر اعظم” کا کٹا ہوا انگھوٹھا لگا کر نئے پاکستان کا عظیم مستری قرار پایا ہے۔

وہ بھی ایک دور تھا کہ جب آئینی حکومتوں کو ہٹانے کے لئیے نسبتا” اخلاقی جرات” والے جرنیل آئین کی معطلی یا پامالی کے اعلان کی باقاعدہ رسم ادا کرتے تھے۔ کہاں اب ووٹ و ضمیر فروش سیاسی جماعتوں کے غدار سینیٹروں کی طرح چھپ کے وار کرنے والے آمر اور ان کے چیلے-ہمت ہو تو مارشل لا کا اعلان کریں- عہدے پر ہوتے ہوئے ان سے بڑا خارجہ و دفاعی پالیسی کا ماہر اور قوم کا راہنما کوئی نہیں ہوتا اور ریٹائرمنٹ کے بعد یہ لوگ ملک و قوم کو اپنی گالف کی گمشدہ گیند کی مانند بھول کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں- وہ سب آرمی چیف آج کہاں ہیں جو وردی میں ہوتے ہوئے خود کو عقل کل سمجھتے تھے؟ اور ان سب کے چیلے کہاں ہیں؟ بہت سے تو خیر کابینہ میں ہیں۔

مذکورہ بحث بظاہر ایک ہوائی فائرنگ لگتی ہے- مگر ایسی تجزیاتی ہوائی فائرنگ کی گولیاں جب اپنی منطق کے وزن اور سچ کی پیاسی زمین کی کشش ثقل سے واپس زمینی حقائق کی جانب بڑھتی ہیں تو اتنی ہی خطرناک ہوتیں ہیں جتنی بندوق کی نالی سے نکلی گولی سامنے کے ہدف کے لئیے- یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کے زمینی حقائق کیا ہیں؟ تو جناب زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں عملا مارشل لا نافذ ہے- ماضی کی نسبتا سگی جمہوریت کی طرح عمران خان کی منہ بولی جمہوریت کی عزت بھی محفوظ نہیں مگر شاید منہ بولے وزیر اعظم عمران خان لفظ عزت سے یا تو آشنا نہیں یا پھر “میری سیاست میری مرضی” کے خود ساختہ اصول پر کاربند ہیں- ان سے پہلے کے وزرااعظم بھی اپنے اپنے ادوار کے آرمی چیفوں کی سیاست اور معیشت پر رائے زنی اور مداخلت پر بزدلانہ خاموشی کا مظاہرہ کرتے رہے مگر اب وہ خاموشی ایک غیر فطری اطاعت میں بدل چکی ہے- دنیا کے کس مہذب اور جمہوری ملک میں (ہم اپنے بارے میں دعوہ تو کرتے ہیں) آرمی چیف کو ملک کے بڑے صنعت کاروں سے ملاقاتیں کرنے کی اجازت ہوتی ہے، ملاقاتیں جن میں حکومتی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق بحث اور ان میں تبدیلی کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہوں- اس غیر آئینی روایت کی بنیاد یوں تو نواز شریف نے ایپلس کمیٹیوں اور آل پارٹیز کانفرنسوں میں آرمی چیف کی شمولیت سے رکھی تھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی جی ایچ کیو میں عوامی مینڈیٹ کی پرچی سے بوٹ چمکانے جایا کرتے تھے مگر سیاسی اور معاشی سرگرمیوں میں عسکری قیادت کی اتنی کھلم کھلا شمولیت کبھی نہ تھی- آرمی چیف کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کی تصاویر حکومتی پابندی کا شکار فلم مالک کی کہانی کا وہ منظر یاد دلاتا ہے جس میں حکومتی نظام ناکام ہونے کے بعد ریٹائرڈ فوجی افسران شھریوں کو اپنی عدالتیں لگا کر انصاف فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستان چھوڑ کر چلے جانے والے معروف ڈائریکٹر اور ایکٹر عاشرعظیم کی سینما گھروں سے اتر جانے والی یہ “فلم (شاید) ابھی باقی ہے میرے دوست-“

فیض آباد دھرنے کے خاتمے کیلئیے تحریک لبیک کی ساتھ ن لیگ کی حکومت نے جو معائدہ کیا تھا اس میں جنرل فیض حمید کے “بالوساطت” (ضامن) دستخطوں کا مطلب آرمی چیف کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کے بعد آج سب کو سمجھ تو آ گیا ہو گا- ڈی چوک کا سیاسی دھرنا تھا یا فیض آباد کا مذہبی دھرنا ان سب میں ضامن ایک ہی تھا- اور آج بھی ضامن وہی ہیں- اب دھرنا مولانا فضل الرحمان کا ہے اور کاروباری شخصیات کو اس میں شرکت یا اسکی مدد نہ کرنے کا واضح پیغام دیا جا چکا ہے- ۲۰۱۹ کا آپریشن فاؤل پلے ۱۹۷۷ کے “آپریشن فئیر پلے”سے کم “فئیر” نہیں۔ سیاست میں ایسی ہی عسکری مداخلت کے خلاف فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کو منصوبے کے تحت “بروقت” فارغ تو نہ کیا جا سکا مگر پھر ملکی سیاست میں مستقل کردار کے لئیے ترتیب شدہ اس منصوبے پر بھی کام رکا نہیں-

کیا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو اخبارات و ٹی وی سے آرمی چیف کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کی خبر نہ ملی ہو گی؟ کیا سیاست میں فوج کے مستقل کردار کے گھناؤنے منصوبے کا آغاز پانامہ کیس کی فیصلے المعروف “گاڈ فادر” سے نہیں ہوا تھا؟ اب جبکہ اس منصوبے کی راہ میں سپریم کورٹ کے دوسرےمعزز جج رکاوٹ بن چکے ہیں تو کیا چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل محض ایک تقریر کر کے خود کو اس منصوبے سے لاتعلق ظاہر کر کے تاریخ میں سرخرو ہو سکتے ہیں؟ اس تقریر میں سکڑتے سیاسی عمل، جانبدار انہ احتسابی عمل اور میڈیا پر پابندیوں کا ذکر کرنے والے چیف جسٹس کو کیا آگے بڑھ کر عملی اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیے تھے؟ سیاستدانوں کی کرپشن و تقریروں پر انہیں گاڈ فادر اور سیسیلین مافیا پکارنے والی عدلیہ اپنے حلف سے روح گردانی کرنے والی عسکری قیادت کی سیاست اور معیشت سے متعلق بیان بازی پر خاموش کیوں ہے؟ کیا عسکری قیادت کی طرف سے سیاستدانوں اور کاروباری حلقوں سے حکومت کا ساتھ دینے کی کھلے عام باتیں فوری عدالتی رد عمل کی متقاضی نہیں؟ یا پھر نظریہ ذاتی ضرورت کے تحت آئین میں درج فوج کے حلف کی تشریح اب ایسے کی جائیگی کہ حلف میں سیاسی سرگرمیوں کی ممانعت ہے معاشی سرگرمیوں کی نہیں- آئین کی بدروح کے مطابق تو تشریح ایسی ہی ہو گی مگر آئین کے روح کے مطابق فوج میں کمیشن حاصل کرتے وقت اٹھائے جانے والے حلف میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے سے مراد معاشی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں- ویسے بھی آرمی چیف سے پاکستان کی سرکردہ کاروباری شخصیات کی ملاقات کا دلچسپ پہلو تو یہ تھا کہ فوج کے سربراہ عملی اعتبار سے خود بھی ملک کے سب سے بڑے کاروباری ڈھانچے کی انتظامی سربراہ ہیں- آرمی چیف بادشاہ ہیں اس کاروباری سلطنت کے جس میں سیمنٹ، کھاد، بنکینگ، تعمیرات، پراپرٹی، تعلیم، اشیائے خوردونوش، نجی سیکیورٹی سمیت ساٹھ سے زائد کاروباری شعبے شامل ہیں- یہ سلطنت فوج، اسکے خفیہ اداروں، حکومتی مالیاتی امداد و مراعات اور کرشماتی خفیہ طاقت و معلومات کے ساتھ نجی کاروباری شعبے سے بظاہر ایک “صحتمندانہ مقابلہ” کر رہی ہے- اس کاروباری مسابقت کو منصفانہ بنانے کی قانونی ذمے داری والامسابقتی کمیشن اس کاروباری سلطنت کی جانب دیکھتے ہوئے بھی ڈرتا ہے کہ قومی سلامتی خطرے میں نہ پڑ جائے- ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب “خاکی کمپنی” اس سلطنت کے بیشتر رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے-

ایسی طاقت ور کاروباری سلطنت کے مالک اور اپنے کاروباری حریف کے قلعے میں بیٹھے تمام سرمایہ کاروں نے سر جھکائے نظریں اٹھائے ایک بار تو سوچا ہو گا کہ اب اس حریف سے مقابلہ کرنا فضول ہے- ملک ریاض اور عکیل کریم ڈیڈی تو پہلے ہی ڈی ایچ اے اور دوسرے عسکری کاروبار کے پارٹنر اور مرید ہیں- اس اجلاس کے بعد تو باقی کاروباری شخصیات کا شک و شبہ بھی دور ہو گیا ہو گا- ذرائع کے مطابق نجی کاروباری مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئیے ایک فوجی افسران پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی جائیگی- تو بس پھر سمجھ جائیں میڈیا کور کے بعد اب بزنس ڈیولپمنٹ کور کی تشکیل بھی دور نہیں- ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ وہ اربوں روپے لگا کر پاکستان کے طاقت ور “پالیسی ساز” فوجی اداروں کے مقابلے میں کاروبار کریں- جو کسی بھی وقت اپنے نقصان کو نئی پالیسی لا کر نفع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اور کچھ نہیں تو بغیر سرمایہ کاری بصورت شراکت داری کے تو سیکیورٹی کلیئرنس میں ہی کئی ماہ لگ سکتے ہیں- یہاں صرف پاک فوج اور اسکی عسکری مہارت میں دلچسپی رکھنے والی حکومتیں ہی انکے ساتھ اشتراکی سرمایہ کاری کرینگی جو ہماری مخصوص خارجہ پالیسی سے مشروط ہو گی-

ملکی سرمایہ کاروں کو بھی آرمی چیف سے ملاقات میں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ فوج کے زیر انتظام کاروباری شعبوں کے مقابلے میں آنے کا کیا مطلب ہو گا- وزیر خزانہ اور چئیرمین ایف بی آر جب ڈی ایچ اے، عسکری بنک اور عسکری صنعتوں کے واحد سرپرست اعلی کے ساتھ سٹیج پر بیٹھ کر سامنے قدموں میں بیٹھی ملک کی اہم ترین کاروباری شخصیات سے مخاطب ہونگے تو پیغام انکے خطاب سے پہلے ہی مل جائے گا- “اب جو کچھ کرنا ہے اس شیر نے کرنا ہے، اس شیر کو خوش رکھیں- باقی ہم سنبھال لینگے-“ نیب کی چالاک لومڑی نے پہلے ہی سیاست کے ہرن اس بوڑھے شیر تک پہنچائیں ہیں- اب ٹیکنوکریٹ لومڑ کاروباری ہاتھیوں کو پیش کر رہے ہیں- اس دوران وزیر اعظم صاحب جنگل کے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگوں اور تقریروں میں مصروف ہیں- مولانا خادم رضوی سے بہتر تقریر وہ پھر بھی نہیں کر سکتے-

اس تمام سیاسی اور غیر سیاسی المئیے کی تازہ ترین مثال ملک بھر کے ضلعی سطح کے چھوٹے ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی ہے جنکے لائسنس سویلین سرمایہ کاروں نے کروڑوں روپے لگا کر دس سال پہلے بولی میں خریدے تھے- اس دوران قومی سلامتی کے نام پر فوج کے ترجمان دفتر آئی ایس پی آر کے زیر انتظام ستر سے زائد ایف ایم ریڈیو سٹیشن بلا لائسنس و فیس میدان میں آ گئے اور مارکیٹ سے اشتہاری بزنس بھی اٹھانے لگے- یرغمال کاروباری مارکیٹ ان خاص ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو اشتہار دینے پر مجبور ہوئی تو سویلین ریڈیو مالکان کا کاروبار ٹھپ ہو گیا- ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسی دوران ایک نوکری پیشہ سرکاری افسر کی سربراہی میں پیمرہ نے تمام ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں سے دس سالہ تجدید لائسنس کی فیس ہر ضلعے کی آخری بولی کے برابر مقرر کر کے طلب کر لی- کروڑوں روپے کی اس فیس کی عدم ادائیگی پر یہ سویلین ریڈیو سٹیشن بند ہو جائینگے اور میدان میں آئی ایس پی آر کے سٹیشن رہ جائینگے- اس حوالے سے سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے ایک منطقی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئےپیمرہ کے حق میں زبانی فیصلہ سنایا ہے- غریب کا ریڈیو غریب کے ساتھ ہی دفنا دیا جائے گا-

ان حالات میں حکومت، عدلیہ، میڈیا اور اپوزیشن کے دبے دبے ڈرے ڈرے بیانات اس مستقبل کا پتہ دے رہے ہیں جس کا ادراک ملک کے دانشوروں کو نہیں بلکہ سیاست اور عدالت کے گاڈ فادروں کو ہی ہے- ملکی سیاست اور معیشت کو بھیڑیوں کے حوالے کر کے فقہ حلفیہ سے تعلق رکھنے والے قوم کے بہت سے مجرم اپنی پنشن اور مراعات سمیت ایک نا ایک دن تو ریٹائر ہو ہی جائینگے اور پھر کسی شیخ کے نوکر- اسکے بعد یہ سب سکون سے اس ملک کی بربادی کا تماشا دیکھیں گے- ایسے کئی جج، جرنیل اور صحافی اج بھی سائیڈ پر ہو کر کمایا ہوا مال ہضم کرنے کی کوشش میں ہیں- اس تمام صورت حال میں امید کی کرن وہ چند سیاستدان، جج اور صحافی ہیں جن کو ملک اور نظام کو درپیش خطرات کا اندازہ ہے اور وہ اپنی ہمت کے مطابق ان آدم خوروں کا مقابلہ کر رہے ہیں- ماضی اور حال کے ایسے آدم خوروں کے لئیے اب کونسی ایسی گالی مناسب رہے گی کہ جسے سن کر ان کو شرم آ جائے- اور عوام سے گالی سننا حکمرانوں یا اصل حکمرانوں پر فرض ہے- حکومت کرنی ہے تو گالی سننے کی برداشت بھی پیدا کرو۔ ویسے بھی آئین کی حفاظتی دیوار میں نقب لگانے والے تنقید کے تیروں کے بچنے واسطے اسی دیوار کی اوٹ لینے کا حق کھو دیتے ہیں- اس تمام صورت حال کا کچھ ذمے دار آکسفورڈ کا ڈگری یافتہ انگھوٹھا چھاپ لٹھ پتلی وزیر اعظم بھی ہے جس پر ایک قرض ہے مگر عوام کا نہیں- اس سیاسی قرض کی قسطوں کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے اور اس دوران اس وزیر اعظم نے اپنا انگوٹھا بھی کاٹ کر عسکری بینک کے پاس گروی رکھوا دیا
ہے-

متعلقہ مضامین