آرمی چیف سے ہماری شکایت کی گئی

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کے سربراہ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے جہاں آئین ہے اور ان کی سعودی طرز کے اختیارات لینے کی خواہش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب سعودی سٹائل کو فالو نہیں کرنا چاہتا جہاں چار ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر لی جاتی ہے۔ ’سعودیہ کی طرز پر اختیارات کی خواہش عجیب ہوگی کیونکہ پاکستان آزاد ملک ہے۔ تاہم یہ کہا تھا کہ اگر اتنے اختیارات مل جائیں تو تین ہفتوں میں دولت واپس لے سکوں گا۔‘

چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اب ٹیکس اور بینک ڈیفالٹ سےمتعلق کوئی معاملہ نہیں دیکھے گا بلکہ یہ کیسز اب ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کو بھیجے جائیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید اقبال نے کہا کہ کاروباری شخصیات کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم کے سامنے نیب کے بارے میں ظاہر کیے گئے تحفظات پر جواب دینا ضروری ہے۔

نیب کے چیئرمین نے کہا کہ ملکی معیشت اور کاروبار کے حوالے سے جو عناصر کردار ادا کرتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ان کے ادارے سے متعلقہ نہیں۔ اس سارے فسانے میں ہمارا ذکر ہی نہیں ہے مگر انتساب اور عنوان بھی ہمارے نام کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت مضبوط ہوگی تو دفاع مضبوط ہوگا دفاع مضبوط ہوگا تو ملک مضبوط ہوگا۔ معیشت ریڈھ کی ہڈی ہے ،اقتصادی ترقی تک معیشت مضبوط نہیں ہوگی۔ تاجر برادری کی بہتری کےلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

’نیب یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات میں کوئی ایسا اقدام کرے جس سے کاروبار متاثر ہو۔‘

جاوید اقبال نے کہا کہ نیب مسئلہ نہیں، مسائل کا حل ہے، نیب انسان دوست ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا اکیلے حکومت کا کام نہیں۔ ٹیکس کے متعلق تمام مقدمات اور معاملات ایف بی آر کے حوالے کر دے گا۔

جاوید اقبال نے کہا کہ کاروبار اور معیشت کا تعلق ٹیکس، اس کے نفاذ، اضافے اور وصولی کے طریقہ کار سے ہے نیب کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ڈالر کا نرخ اور سٹاک ایکسچینج بھی معیشت اور کاروبار پر اثرانداز ہوتے ہیں جن کا احتساب کے ادارے سے تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر تنقید کرنے والوں نے نیب کا قانون پڑھا ہے اور نہ ملک کا آئین پڑھا ہے۔ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے ناقدین ملک کے عدالتی نظام سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ ’ملکوں کے زوال میں کرپشن کا اہم کردار ہوتا ہے۔‘

جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نہ کسی تاجر اور بزنس مین کو بلائے گا۔ نہ ہی نیب کا کوئی افسر کسی کاروباری شخصیت کو پیش ہونے کے لیے فون کال کرے گا۔ کاروباری طبقے کی جانب سے تنقید بلاجواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں سے یہ درخواست ہے کہ نیب کے ریفرنسز کا اختتام جلد سے جلد ہونا چاہیے۔ تنقید تعمیری ہونا چاہیے۔ نیب کو وجود میں آئے  22،21سال ہو چکے۔ بلا جواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب سے متعلق تاجروں کو کچھ تحفظات ہیں۔ کرپشن، بد عنوانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں نے بہت دیانتداری سے کوشش کی کہ نیب کا امیج بہتر ہو۔

متعلقہ مضامین