ابصار عالم کا مقدمہ سپریم کورٹ میں

پاکستان کے معروف صحافی اور الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پیمرا کے سابق سربراہ ابصار عالم کی عہدے سے ہٹائے جانے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ میں ابصار عالم کے وکیل نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا کہ ان کے مؤکل کو چیئرمین پیمرا کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ قانون کی نظر میں درست نہیں۔

وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کیا گیا جبکہ تقرر 2002 کے آرڈیننس کے تحت کیا گیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ابصار عالم نے عدالتی فیصلہ کو قبول کرکے استعفی دیا۔

ابصار عالم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے عہدہ خود چھوڑا لیکن اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوئے۔

جسٹس شاہ نے پوچھا کہ کیا آپ کے موکل کو عہدے سے ہٹائے جانے پر اعتراض ہے؟ کیا آپ نے عدالتی فیصلہ کو چیلنج کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نئے چیئرمین پیمرا کا تقرر شفاف نہیں سمجھتے تو رٹ دائر کر سکتے ہیں، یہ بڑی سخت بات ہے آپ کو نئی تقرری کے عمل شامل ہونے نہیں دیا گیا، اس حد تک معاملہ کو دیکھنے کے لیے تیار ہیں۔

عدالت نے ابصار عالم کی اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔

عدالت عظمی نے وفاق اور پیمرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

متعلقہ مضامین