پرانے اور نئے دھرنے میں فرق

دھرنا سیاست کی ایک خاصی طویل تاریخ ہے اور اسے غیر مسلح مزاحمت کا ایک اہم ہتھیار تسلیم کیا جاتا ہے۔ سیاہ فاموں نے اپنے حقوق کےحصول کے لئے دھرنوں کا استعمال کیا۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی میں بھی اس کا استعمال دیکھا گیا ۔۔۔ مہاتما گاندھی کو ان کے دھرنے میں ہی قتل کیا گیا تھا ۔۔۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ مہاتما نے یہ دھرنا بھارتی حکومت کے خلاف نوزائیدہ پاکستان کے وسائل روکے جانے کے خلاف کیا تھا۔ یہاں دھرنوں کی تاریخ بیان کرنا میرا مقصد نہیں ہے ۔۔ اس مضمون میں صرف یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ عمران خان کے دھرنے اور مولانا کے دھرنے میں کیا فرق ہے۔ آپ بھی اپنی آراء اس میں شامل کر سکتے ہیں۔

۱۔ جب عمران خان نے دھرنا دیا تھا، اس وقت زرداری صاحب کی بیڈ گورنس کے حوالے سے بدنام حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور لوگوں کو نون لیگ کی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ عوام نے پانچ سال زرداری حکومت کو ایک برے خواب کی طرح برداشت کیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ایک بری حکومت کے بعد نون لیگ کی حکومت آئی ہے اور وہ اپنے ماضی کے ریکارڈ کے پیش نظر معیشت کے پہیے کو چلائے گی اور عوام کے مسائل کو حل کرے گی۔۔۔۔ اس لئے عوام میں اُس حکومت کو تبدیل کرنے کا کوئی داعیہ نہیں پایا جاتا تھا۔ شاید اسی لئے عمران خان کے دھرنوں میں گرمی پیدا کرنے کے لئے لاشوں کا انتظام کرنا پڑا تاکہ خون کے ایندھن سے تحریک کا پہیہ چلے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے جن کا اس وقت اعلان ہو چکا ہے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب نون لیگ کی حکومت، جس کا عوام کو سہولتیں دینے اور ملکی تعمیر و ترقی کے حوالے سے بہت اچھا نام ہے، کو ختم کیا جا چکا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسی حکومت کو مسند پر بٹھایا گیا ہے جو اپنی کارکردگی سے لوگوں کو زرداری حکومت سے بھی بدتر لگ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے کہ لوگ پہلے سال سے ہی نون لیگ حکومت کو یاد کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ گویا ایک بہتر حکومت کے بعد بری حکومت آئی ہے جس کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن تحریک چلانے کھڑے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی شدید خواہش ہے کہ اس حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ لوگوں کی اس خواہش کا اظہار گیلپ سروے سے بھی ہوتا ہے۔

۲ – دھرنے کے حوالے سے عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور وہ انہی کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر میدان میں اترے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک اسٹیبلشمنٹ کے سیٹ اپ کے خلاف ہے۔ مولانا پہلے دن سے ہی اس سیٹ اپ کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان کی تحریک سے یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں سراسیمگی پائی جاتی ہے۔

۳ – عمران خان کے دھرنوں کے وقت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی جذبات نہیں پائے جاتے تھے۔ چھوٹے صوبوں میں اسٹیبشلمنٹ سے شکایات ضرور پائی جاتی تھیں لیکن اکثریتی صوبے پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے مکمل طورپر خیرسگالی کے جذبات پائے جاتے تھے اور عام لوگ اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ کاروائیوں سے زیادہ باخبر نہیں تھے۔

مولانا کے دھرنے جس فضا میں ہو رہے ہیں اس میں سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے طفیل اسٹیبلشمنٹ کی کاروائیوں کے متعلق اچھی خاصی باخبری پائی جاتی ہے۔ لوگ پولیٹیکل انجینرنگ اور عدلیہ و اسٹیبلشمنٹ گٹھ جوڑ کے متعلق اس قدر باخبر ہیں کہ چیف جسٹس آصف کھوسہ کو اس کے متعلق باقاعدہ تشویش کا اظہار کرنا پڑا۔ سب سے بڑھ کر پنجاب میں لوگ اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ہیں۔ آپ کسی گلی محلے میں نکل جائیے، کسی دکاندار، ریڑھی والے، مزدور یا کسی بھی فرد سے پوچھیے وہ آپ کو اسٹیبلشمنٹ کی کاروائیوں کے متعلق بتا دے گا۔ شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پہلے اسٹیبلشمنٹ پوشیدہ انداز سے کاروائیاں کرتی تھی، لیکن 2018 کے الیکشنز سے پہلے اور دوران اسٹیبلشمنٹ نے بہت کھل کر اپنی ناپسندیدہ پارٹیوں کے خلاف کاروائیاں کی ہیں۔ عدلیہ کے یکطرفہ فیصلوں سے بھی اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے۔

۴ – عمران خان کے دھرنوں کے وقت ایک عام تاثر یہ تھا کہ عمران خان ایک بہت قابل، ایماندار اور ذہین شخص ہے۔ اس کو ایک چانس دینا چاہیئے۔ گو تب بھی خانصاحب کی پارٹی کی حکومت ایک صوبے پر قائم تھی جہاں ان کی کارکردگی قابلِ رشک ہرگز نہیں تھی لیکن لوگ خانصاحب کی ذات سے اچھی امیدیں وابستہ رکھتے تھے۔

اب مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنوں کے وقت لوگوں کا عمران خان کے بارے میں متذکرہ بالا تاثر مکمل طور پر گہنا چکا ہے۔ اب لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ممکن ہے خود ایماندار ہوں لیکن وہ حکومت کرنے، چلانے اور سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ کرپشن وغیرہ کے حوالے سے ان کے تمام نعرے محض مخالف جماعتوں کے خلاف ایک ہتھکنڈہ ہیں جبکہ ان کی اپنی حکومت کرپشن اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے بہت سے معاملات میں بہت بدنام ہو چکی ہے۔

۵ – عمران خان کے دھرنوں کے وقت ایک تاثر یہ تھا کہ نوازشریف بہت ڈرپوک، قید و بند سے ڈرنے والا اور اسٹیبشلمنٹ سے سمجھوتے کرنے والا سیاستدان ہے۔

مولانا کے احتجاج کے وقت یہ تاثر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ لوگ نوازشریف کی استقامت کے معترف ہیں۔ جس بہادری سے وہ قید و بند کی صعوبتیں اٹھا رہا ہے اس سے اس کے وقار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اسٹیبشلمنٹ اور ان کے کارندوں کے خلاف ایک عمومی فضا ترتیب پا گئی ہے۔

۶ – عمران خان کے پاس دھرنا دینے والے کارکن میسر نہیں تھے۔ اس مقصد کے لئے انہیں مولانا طاہر القادری کے ساتھ مل کر دھرنا دینا پڑا جن کے کارکن ہمہ وقت دھرنے میں موجود ہوتے تھے۔ عمران خان خود اور ان کے کارکن روزانہ اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے اور شام کو ایک ثقافتی شو ٹائپ کی تقریب منعقد کیا کرتے تھے جس میں نوجوان ہلہ گلہ کرنے چلے آیا کرتے تھے۔ ان کے لئے شاید ایک بہت بڑی کشش میوزک اور خواتین کارکنوں کی موجودگی ہوتی تھی۔ اصل دھرنا طاہرالقادری صاحب کا تھا جو دن میں بھی طویل انقلابی خطابات کے ذریعے کارکنوں کا خون گرمایا کرتے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن دھرنا دینے والے کارکنوں کے حوالے سے خودکفیل ہیں انہیں اس مقصد کے لئے کسی کی سپورٹ درکار نہیں ہے۔

۷ – عمران خان کے دھرنے کو رنگ لگانے کے لئے کچھ افراد کا خون کیا گیا تھا تاکہ لوگ انتقام کے جذبے سے معمور ہو کر حکومت کے خلاف کارگر کاروائی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف عمران خان وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے دوسری طرف مولانا خون خون کی صدائیں بلند کر رہے تھے۔ حکومت کو ہر طرف سے گھیرا جانا مقصود تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے پاس بیچنے کے لئے لاشیں دستیاب نہیں ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور حکومت کا گرتا ہوا اخلاقی جواز ہی ان کا کل اثاثہ ہے۔

۸- آخری ممکنہ فرق خانصاحب اور مولانا کے دھرنوں میں خواتین کی موجودگی کا ہو سکتا ہے۔ خانصاحب کے دھرنوں میں خواتین کے آنچلوں سے بہار آئی ہوئی تھی جبکہ مولانا کے دھرنوں میں بڑے بڑے داڑھیوں والے سخت گیر ملا نظر آئیں گے۔ ایک اور فرق میڈیا کوریج کا ہو گا۔ عمران خان کے دھرنوں کا 24/7 میڈیا کوریج ملتی تھی۔ مولانا کو شاید یہ سہولت دستیاب نہ ہو۔ انہیں سوشل میڈیا پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔

یہ کچھ فرق ہیں جو میں تلاش کر پایا ہوں۔ آپ فرق کے علاوہ مماثلتیں تلاش کرنا چاہیں تو چشم و روشن دل ما شاد۔

متعلقہ مضامین