نواز شریف کا پھر ججوں پر اعتراض

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عدالت عظمیٰ 23 اگست 2019 کا اپنا فیصلہ واپس لے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ دینے والے بینچ میں تین میں سے دو جج صاحبان وہ تھے جنہوں نے درخواست گزار کے خلاف العزیزیہ ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا اور بعد ازاں درخواست گزار نواز شریف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا۔

’پہلے سے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے پر سپریم کورٹ کو فیصلہ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ 23 اگست کے فیصلے کے پیراگراف گیارہ سے درخواست گزار کے حقوق سلب ہوئے ہیں۔ تین رکنی بینچ نے ویڈیو کے بطور شہادت پیش کیے جانے کے طریقے پر تفصیل سے بات کی ہے۔‘

احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں عدالتی فیصلے کے بارے میں اپنی درخواست میں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ہمیں نوٹس کیے اور سنے بغیر یہ فیصلہ دیا گیا، ہمارا موقف لیے بغیر عدالت نے معاملے کے پیرامیٹرز طے کردیے، ویڈیو سکینڈل کے معاملے پر ہمارا موقف بھی سنا جائے۔‘

نوازشریف نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست میں جج ارشد ملک اور درخواستیں دائر کرنے والے وکیلوں کو فریق بنایا گیا۔

’سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اُس سے ہمارا حق متاثر ہوا، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہمارا موقف سنا جائے، ہمارا موقف سن کر سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔‘

نواز شریف نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کے خلاف آبزرویشنز پر نظر ثانی کی جائے، متاثرہ فریق کو سنے بغیر دیے گئے عدالتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو کے معاملے پر وکیلوں کی جانب سے تین درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی تھی اور بینچ نے دوران سماعت اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت جج ارشد ملک کی شکایت پر درج ایف آئی آر کی تفصیلات مانگیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو بطور جج عہدے سے ہٹایا اس کے باوجود وزارت قانون نے او ایس ڈی بنا کر رکھا۔

متعلقہ مضامین