’وکیلوں کی سوسائٹی غیر قانونی ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں عدالت عظمیٰ کے وکیلوں کی تنظیم کی ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے زمین کے حصول کے کیس کی سماعت کے دوران مقامی شہریوں کے خلاف آپریشن روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے موضع تمہ موریاں میں پولیس اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے مقامی افراد کے خلاف طاقت کے استعمال پر وکیل نعیم بخاری نے دلائل کے دوران احتجاج ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں مقامی افراد کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیلوں کے لیے سوسائٹی کے نام پر زمین ایکوائر کرتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔

خیال رہے کہ وکیلوں کی سوسائٹی کے لیے زمین ایکوائر کرنے کے آپریشن کے دوران مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں میں تین دن قبل مسلح تصادم ہوا تھا جس میں کئی افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا تھا کہ پولیس پر پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

مقامی افراد کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ پولیس نے آپریشن میں ناکامی کے بعد بچوں کے خلاف مقدمات درج کیے اور اب ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ عدالت نے موضعات تمہ اور موریاں کی زمین ایکوائر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ ’عدالت کا سنہ 2016 میں دیا گیا حکم گاؤں ملوٹ کی زمین کے حوالے سے تھا۔ ان موضعات کی زمین کے لیے کوئی فیصلہ ہی نہیں دیا گیا تو اس کی توہین کیسے ہوگئی؟‘

عدالت سے استدعا کی گئی کہ معاملے کو انتظامی سطح پر حل کیا جائے یہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ہمیں ہی فیصلہ کرنے دیں۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواستوں پر سپریم کورٹ احکامات غیر قانونی ہیں، ہائوسنگ فائونڈیشن کو زمین حاصل کرنے کا اختیار نہیں۔ قانون کے مطابق سی ڈی اے عوامی منصوبے کیلئے زمین لے سکتا ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ وکیلوں کے لیے زمین لینا کوئی عوامی مفاد نہیں، اڑھائی کروڑ کی زمین چالیس لاکھ میں وکیلوں کو کیوں دی جائے؟۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم وکیلوں کی لالچ کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔‘

نعیم بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وکلاء کیلئے ہائوسنگ منصوبے کا حکم دیا، نہ صرف وزیراعظم بلکہ کابینہ بھی کسی کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔

عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کو تمہ اور موریاں میں آپریشن سے روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایک برس قبل سپریم کورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ڈرانے دھمکانے پر ایک متاثرہ زمین مالک نے بھری عدالت میں کہا تھا کہ وہ مارے گا اور مر جائے گا مگر اپنی زمین وکیلوں کی سوسائٹی کے لیے نہیں دے گا۔

مقامی رہائشیوں کے تحفظات کے باوجود سابق چیف جسٹس نے وکیلوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے زمین حاصل کرنے کے معاملے پر ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے حکام پر دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین