جسٹس فائز کیس میں آج دس ججز

پاکستان کی سپریم کورٹ صدر مملکت کی جانب سے اعلی عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف دائر ریفرنس کے خاتمے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کو سن رہی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے سترہ میں سے دس ججز پر مشتمل لارجر بینچ منگل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور وکلا تنظیموں کی جانب سے دائر کی جانے والے آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

بینچ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم شامل نہیں۔ یہ تینوں ججز سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہیں جہاں صدارتی ریفرنس زیر التوا ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کے اعتراض پر بینچ سے الگ ہونا پڑا تھا۔ دونوں ججز جسٹس قاضی فائز کو عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں چیف جسٹس بن سکیں گے۔

جسٹس فائز نے سپریم کورٹ میں دو متفرق درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایک میں چیف جسٹس کے ریفرنس پر فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

جسٹس فائز عیسی نے اپنی درخواست میں کئی اہم انکشافات کیے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیے جانے سے ایک ماہ قبل چیف جسٹس کھوسہ ان کو واک پر لے گئے تھے اور کچھ باتیں کیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’چیف جسٹس نے مجھ سے واک پر جو باتیں کیں وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے بند کمرے میں بتاؤں گا اور پھر چیف جسٹس وہاں مجھے غلط ثابت کریں۔‘

صدارتی ریفرنس کے خلاف چھ سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سینیئر وکیل عابد حسن منٹو بھی شامل ہیں۔

عابد حسن منٹو نے اپنی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی ہے کہ پہلے ان زیرِ التوا ریفرنسز پر فیصلہ دیا جائے جو کہ عرصہ دراز سے سپریم جوڈیشل کونسل میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ مضامین