جسٹس فائز کے مقدمے کا احوال

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو ختم کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران سینیئر وکلا نے استدعا کی ہے کہ پہلے مرحلے میں اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل سے دیگر ریفرنسز کا ریکارڈ منگوا کر سامنے لایا جائے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال سماعت کے آغاز پر کافی جارحانہ موڈ میں دکھائی دیے اور ان کی آواز بھی معمول سے زیادہ اونچی سنائی دے رہی تھی یا محسوس کی گئی تاہم پندرہ منٹ بعد ساتھی ججوں نے ان کی جانب جھک کر سرگوشیاں شروع کیں تو ماحول کو ’نارملائز‘ کیا گیا۔

دس رکنی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے رضا ربانی اور بلال حسن منٹو ایڈووکیٹ کی استدعا پر جواب دیا کہ اس کا مرحلہ بھی آئے گا جبکہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کے سوا کسی اور درخواست کا جواب جمع نہیں کرایا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جب تک وفاق کا جواب ان کو فراہم نہیں کر کے تیاری کا موقع نہیں دیا جاتا وہ باضابطہ دلائل نہیں دیں گے۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کسی صورت ملتوی نہیں کی جائے گی۔ ’بتایا جائے کہ کیا صرف مقدمے کو لمبا کھینچنا ہے تو پھر اٹارنی جنرل کا جواب پڑھ کر دو ہفتوں میں تیاری کر لیں اور اگر چاہتے ہیں کہ جلد مکمل کیا جائے تو ایک دن بعد رکھ لیتے ہیں، آ کر دلائل دیں۔‘

وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ ان کی درخواست پر سپریم جوڈیشل کونسل کا جواب بھی اٹارنی جنرل نے جمع کرایا ہے۔ ’کیا اٹارنی جنرل اب سپریم جوڈیشل کونسل کی بھی نمائندگی کریں گے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کی نیت پر اعتراض کیا جائے گا اور نہ ہی انہوں نے خود جواب دینا ہے۔ عام آدمی کی طرح تنقید کرنے کے بجائے امید ہے کہ قانون کے مطابق دلائل دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں سپریم جوڈیشل کونسل سمیت ملک کے ہر آئینی ادارے کا احترام کرنا چاہیے۔‘

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اس کیس کو اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر اوپر اٹھ کر آگے بڑھایا جائے، سول عدالت کی طرز کے اعتراضات نہ کیے جائیں۔‘

وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ ان کو انتظامیہ کے لیول کو بھی دیکھنا ہوگا۔

جسٹس عمر عطا نے دیگر وکلا کو مخاطب کرکے وکیل منیر اے ملک کے بارے میں کہا کہ ’ان کی واپسی دھماکے دار ہوئی ہے۔ زیرو میٹر تھیوری کے بارے میں سنا ہوگا۔‘

منیر اے ملک نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ان کے دل کی شریانوں میں تین سٹنٹ ڈالے گئے ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ بینچ میں شامل جج صاحبان بھی منیر اے ملک کو سن کر اور گرجتے قانونی دلائل سے لطف لیتے ہیں۔

دیگر درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاق کا جواب آ گیا ہے تو فراہم کرکے تیاری کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ’یہ کوئی کیک نہیں، کیس ہے۔‘

بینچ میں شامل ججز نے آپس میں مشاوت کی جس کے بعد جسٹس عمر عطا نے وکیل منیر اے ملک سے کہا کہ ’بینچ میں آپ کی سپورٹ زیادہ ہے اس لیے مقدمے میں آئندہ ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں مگر پیر کو سنیں گے۔‘

سندھ بار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل رضا ربانی نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سنہ 2005 کے قواعد اس مقدمے سے ہی متعلق ہیں، وہ اس معاملے سے جڑے ہیں الگ نہیں اس لیے پہلے ان کا جائزہ لیا جائے اور درخواست گزاروں کو کونسل میں زیرالتوا دیگر ریفرنسز اور ریکارڈ تک رسائی دی جائے۔

سینیئر وکیل عابد حسن منٹو کے صاحبزادے بلال منٹو نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ ان کی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی دیگر ججز کے خلاف ریفرنسز اور ان کے حوالے سے دی گئی فائنڈنگز کا ریکارڈ مانگا گیا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ درخواست میں کافی آگے کی چیزیں ہیں اس لیے سنجیدگی سے دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت معاملہ اس کا ہے کہ ’ایک داغ اس ادارے کے ایک معزز رکن پر لگایا گیا ہے۔‘ پہلے کو دیکھنا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مقدمے کی پہلی سماعت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سترہ ستمبر کی سماعت میں وکیل منیر اے ملک نے اعتراضات کیے جن سے سپریم کورٹ نے اتفاق نہ کیا مگر ہمارے دو معزز ججز چھوڑ بینچ چھوڑ گئے۔ ’وہ بہت افسوس ناک تھا لیکن گزر گیا۔ ہم اس مقدمے سے تکلیف میں مبتلا ہیں۔‘

وکیل نے کہا کہ اس مقدمے کی وجہ سے عام لوگوں میں اضطراب ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اسی اضطراب کی وجہ سے پوری سپریم کورٹ کٹہرے میں کھڑی ہے۔ ’ہماری کمیونٹی کے ایک عزیز رکن پر یہ الزام لگا ہے اور عدلیہ پر حرف آ رہا ہے۔‘

وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ اس وقت تک ان کے پاس سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا کوئی ریکارڈ یا دستاویز نہیں ہے اور وہ اس مقدمے میں درخواست گزار ہیں۔ ’یہ مقدمہ صرف جسٹس فائز عیسیٰ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان نہیں ہے۔‘

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل انور منصور خان سے کہا کہ درخواست پر جواب جمع کرانے میں تاخیر وفاق نے کی جس کے وہ ذمہ دار ہیں۔ ’یہ سب آپ کے بروقت جواب جمع نہ کرانے کی وجہ سے ہوا، آئندہ ایسا نہ ہونے کی توقع ہے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پر منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز کو جنٹلمین کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس بیرون ملک پراپرٹی خریدنے کے وسائل نہ ہوں مگر یہ جائیدادیں اس وقت خریدی گئیں جب وہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے۔‘ کیا ان الزامات کا جواب دینے کے لیے آپ کو مزید بیس دن تک مہلت دے کر مقدمہ ملتوی کر دیا جائے۔ جس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ ’یہ تو کیس ہی نہیں ہے۔ وفاق کا جواب آنے دیں پھر بتائیں گے کہ اصل معاملہ کیا ہے اور بدنیتی کہاں پر ہے۔‘

وکیل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس لانے والا درخواست گزار اصل نہیں ہے بلکہ کسی کی پراکسی ہے۔ ’درخواست کے ذریعے اس جج کو ہٹانا اور ڈرانا مقصد ہے جس کے فیصلوں سے کچھ حلقے اور انتظامیہ پریشان ہوئی۔‘

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ درخواست گزار (جسٹس فائز) نے صدارتی ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کی تردید نہیں کی۔ وکیل نے کہا کہ ان الزامات کا تعلق جج کے کنڈکٹ سے ہی نہیں ہے۔
مقدمے کی آئندہ سماعت پیر 14 اکتوبر کو ہوگی۔

متعلقہ مضامین