صنفی تشدد پر نئی عدالتیں قائم

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف کھوسہ جو قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے ملک بھر میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے مقدمات سننے کے لیے نئی عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تمام ہائیکورٹس کو 4 نومبر تک صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن کے تمام ہائیکورٹس کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان خصوصی عدالتوں میں خواتین اور بچوں کو پر سکون اور ساز گار ماحول فراہم کیا جائے۔

اعلامیے کے مطابق ”صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتوں کے قیام کا مقصد خواتین سمیت کمزرو طبقے کو فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ صنفی بنیاد پر تشدد کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔“

بیان میں بتایا گیا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتوں میں لاہور جوڈیشل اکیڈمی سے تربیت یافتہ ججز تعینات کیے جائیں۔

اعلامیے کے الفاظ ہیں کہ ”جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، چیف جسٹس آف پاکستان، چیئرمین، قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی ہدایات کے مطابق ڈاکٹر محمد رحیم اعوان، سیکرٹری، قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے تمام ہائی کورٹس کومطلع کیا ہے کہ ملک میں صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتیں 4 نومبر، 2019 تک قائم کردی جائیں اور متعلقہ مقدمات ان جج صاحبان کو تفویض کئے جائیں جو کہ ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک کی معاونت سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، لاہور، میں منعقدہ متعلقہ تربیت مکمل کرچکے ہیں۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مورخہ 29 اپریل، 2019 اور 24 جون، 2019 کے اجلاسوں میں خواتین اوربچوں پرصنفی بنیاد پرتشدد سے متعلقہ مقدمات کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر غور کیا۔ اس تناظرمیں، قومی عدالتی ساز کمیٹی نے مورخہ 24جون، 2019 کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ تمام عدالت عالیہ، ایک عزت مآب جج صاحب کو صنفی بنیاد پر تشددکی عدالت کے لئےبطور فوکل پرسن مقرر کریں گی۔ مزید برآں، تمام ہائی کورٹس، ہر ضلع سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور مجسٹریٹ کو (ضرورت کے مطابق) پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، لاہور، میں تربیت کے لئے مرحلہ وار نامزد کریں گی اورصنفی تشدد سے متعلق مقدمات تربیت یافتہ عدالتی افسران کوتفویض کئےجائیں گے۔
بلاشبہ، عزت مآب، چیف جسٹس آف پاکستان کا نصب العین دستور پاکستان کے مطابق، فوری اور ٓاسان انصاف کی بلا تفریق ہرشہری اوربالخصوص معاشرہ کے کمزورطبقہ ، مث ٗلا خواتین اور بچوں، کوفراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ صنفی تشدد سے متعلقہ عدالتوں میں خواتین اور بچوں کے لئے ماحول خوشگوار ہوگا، اور یہ عدالتیں احا طہ کچہری میں محفوظ مقام اور سازگارماحول میں قائم کی جائیں گی تاکہ ان عدالتوں میں آنے والے بچے اور خواتین آ سودگی محسوس کریں۔ مزید برآں ، ان عدالتوں میں بیٹھنے کے لیے آرام دہ جگہ اور اگر ممکن ہو توبچوں کے لئے کھیلوں کا احا طہ بھی مخصوص ہوگا۔


چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین قومی عدالتی پالیسی سازکمیٹی نے، بلاشبہ، معاشرہ کے محروم طبقا ت اور بالخصوص بچوں اور خواتین کے عدالتی مسائل ، ان کے حل اور فوری اورسہل انصاف کی فراہمی کے لئے قابل تحسین قدم اٹھایا ہے۔ ل ٰہذا، عزت مآب، چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین قومی عدالتی پالیسی سازکمیٹی نے مفادعامہ اورم ٗوثر نظام انصاف کے حصول کے لئے افسر تحقیق کمیٹی کی متذکرہ بالا ہدایات کو معنی ومفہوم کے مطابق نفاذ کے لئے ہدایت دی ہے۔

متعلقہ مضامین