جب نواز شریف عدالت میں تھے

مدثر حسن ایڈووکیٹ ۔ لاہور

جمعے کی صبح سول کورٹ سے کیسز نمٹا کے کنزیومر کورٹ کی طرف گیا تو خلاف معمول نیو جوڈیشل کمپلیکس کی طرف لوگ بھی زیادہ تھے اور سیکورٹی کے انتظامات بھی سخت تھے. اچانک ذہن میں خیال گزرا کہ آج میاں صاحب کو العزیزیہ ریفرنس سے ممکنہ بریت کی صورت میں ایک نئے کیس میں گرفتار کرنے کی تیاریاں ہیں. بوجھل دل اور سازشی ماحول کے تانے بانے بنتا اور کڑیان ملاتا ایک چیک پوسٹ کراس کرنے لگا۔ وکلا یونیفارم کی دھاک کا بھرپور استعمال کیا مگر پھر بھی محسوس ہوا جیسے شاید کوئی غیر ملکی بارڈر کراس کر رہا ہوں۔ پولیس والے اور خفیہ والوں کے لوگ جگہ جگہ اپنی موجودگی کا پتا دے رہے تھے۔ چلتے چلتے دوسری چیک پوسٹ پر پہنچا تو خفیہ والے اپنا کام دکھا چکے تھے۔ پولیس والے نے روکا اور بار کونسل کا کارڈ مانگا۔ میرے اندر کا وکیل جاگا اور میں نے غیر ضروری ہنگامہ آرائی کرنے کی ٹھانی جس کا واحد مقصد پولیس کو یہ باور کروانا تھا کہ عدالت جانا ایک وکیل کا اولین استحقاق ہے اور یہ حق چھیننے کی کوشش بھی نہیں کی جا سکتی۔

ہر دوسرے دن نیو جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں طرف خاردار تاریں لگا کر اسے ممنوعہ علاقہ ڈیکلیئر کر دینا اب پنجاب پولیس کی ریت بن گئی ہے جس سے نا صرف وکلا متاثر ہوتے ہیں بلکہ سائلین بھی پریشان ہوتے ہیں. پنجاب پولیس کی عقل پر ویسے بھی ماتم کرنا اس لیے بنتا ہے کہ ن لیگ کے جن لوگوں کا احتساب ہو رہا ہے ان کے لیے انکے اپنے گھر والے بھی احتجاج نہیں کرتے تو راستے روکنا کہاں کی عقلمندی ہے. آج کی مثال لے لیجئے نواز شریف کافی مدت بعد نظر آنے والے تھے مگر شہباز شریف کسی ”قمر درد“ میں آج بھی مبتلا ہیں۔ میری پولیس والے سے بحث اس بات پر ختم ہو گئی کہ لاہور بار نے کہا ہے کہ وکلا اپنا کارڈ دکھا دیا کریں۔

تیسری چیک پوسٹ پر بیٹھے پولیس والے چہرے سے شناسائی رکھتے تھے اس لیے بغیر حیل و حجت گزرنے کا اشارہ کر دیا. مجھے ایک سپاہی نے بتایا کہ میاں نواز شریف عدالت آ گئے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس میں ہو کا عالم تھا اور تمام عدالتیں خالی تھیں، نہ کوئی سائل نہ وکلا کا شور اور سب سے بڑھ کر عجیب سی خوف کی فضا۔

چلتے چلتے پہلے فلور پر پہنچا جہاں دائیں جانب احتساب عدالت نمبر چار کے باہر بہت بڑے بڑے چہرے کھڑے نظر آئے جن میں سب سے پہلے مریم اورنگزیب انکے ساتھ حنا پرویز بٹ اور نیلی شلوار قمیض میں ملبوس ابصار عالم نظر آئے۔ میں عدالت میں داخل ہو گیا۔ اندر بلا کا حبس تھا اور ماحول عدل و انصاف کے ڈوبتے سورج کی وحشت ناک تصویر بنا ہوا تھا۔

احتساب عدالت کے جج امیر محمد ریمانڈ پر نیب پراسیکیوٹر اور امجد پرویز کی بحث سن رہے تھے اور وکلا جج صاحب کی بے بسی دیکھتے ہوئے محظوظ ہورہے تھے. سب کو پتا تھا کہ ریمانڈ ایسے ملے گا جیسے ریوڑیاں بانٹی جاتی ہیں جبکہ عدالتوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ جونیئر وکیل بھی اب مجسٹریٹس کو تڑیاں لگاتے نظر آتے ہیں کہ جب ریکوری نہیں کرنی تو ریمانڈ کس بات کا۔ میاں نواز شریف کے کیس میں صرف ایک بیان قلمبند ہونا ہے اور اسکے کیے دو ہفتے کا جسمانی ریمانڈ مذاق ہی لگا۔


گرمی کے زور نے مجبور کیا تو باہر نکلا سامنے احسن اقبال اور پرویز رشید محو گفتگو تھے اور وکلا دھڑا دھڑ سلفیاں بنا بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے تھے کہ شاید سیاسی لیڈران کے ساتھ تصویر کھنچوا کر کوئی تمغہ مل جاتا ہو۔ میں ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور یاد کرنے لگا کہ کیسے ایک وزیر اعظم کو سیدھا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے. وقتا فوقتا وکلا کرنل اور جنرل کے نعرے لگا اپنا غصہ نکالتے تو احسن اقبال جیسے زیرک سیاستدان سنجیدہ منہ بنا لیتے اور تاثر دیتے کہ وہ ان نعروں والوں کے ساتھ نہیں۔


مریم اورنگزیب، پرویز رشید اور احسن اقبال خوش گپیوں میں اس قدر مصروف تھے کہ مجھے شرمندگی ہونے لگی اور میں دوبارہ کورٹ روم میں چلا گیا۔ دل میں بار بار یہ خیال ستاتا تھا کہ ان تینوں کو میاں صاحب کی قربت آج اس جگہ پر لائی ہے اور یہ لوگ چند گھڑیاں کمرہ عدالت میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

ڈاکٹر آصف کرمانی بھی نظر آئے جو پاکستانیوں کی لائن نہ بنانے کی عادت پر برائیاں کر رہے تھے مگر لیڈر نے جو لائن دی تھی اس سے صرف اس بات پر ہٹ گئے کہ کمرہ عدالت میں گرمی تھی۔ سب سے زیادہ غصہ مریم اورنگزیب پر آ رہا تھا جنہیں وفاقی وزارت اطلاعات جیسے منصب پر نواز شریف نے بٹھایا تھا اور وہ گرمی و حبس کے باعث نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہونے سے انکاری تھیں. میرے اندر خدشات سر اٹھانے لگے کہ یہ لوگ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں کیسے جائیں گے جو کمرہ عدالت میں دل کے مریض اور پسینے سے شرابور لیڈر کے ساتھ کھڑے ہونے کی ذحمت بھی نہیں کرتے۔


اسی دوران اسلام آباد سے ایک وکیل دوست کی کال آئی جو اپنے ایک کیس کا حال پوچھ رہے تھے۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ فلاں تین چار لوگ دھرنے میں جانے کے قائل نہیں ہیں۔ دوست کا تعلق ایسے گھر سے ہے کہ بات کی سچائی پر کوئی شک نہیں۔

میرا خدشہ حقیقت کا روپ ڈھال گیا اور کمرہ عدالت میں میں پھر سے کھڑا نواز شریف کے وہ الفاظ سن رہا تھا کہ ”یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو ڈرا لیں گے۔ ان کو بتا دیں کہ نواز شریف اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔“

مجھے خوف آنے لگا کہ لیڈر کس دلیری کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے مگر گرمی اور حبس سے پریشان احسن اقبال، پرویز رشید اور مریم اورنگزیب شاید اللہ کے علاوہ جیل جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔


اس اثنا میں ریمانڈ ملا۔ میاں صاحب باہر نکلے چند لمحے میڈیا سے بات کی اور چلے گئے۔ بالکونی سے میں نے دیکھا کہ مریم اورنگزیب میاں صاحب کی گاڑی کے پاس کھڑی تھیں اور شاید روتے ہوئے نواز شریف کو رخصت کر رہی تھیں اور کسی کونے سے طلال چوہدری آتے ہوئے نظر آئے۔
رہے نام اللہ کا

متعلقہ مضامین