پارلیمان میں ثاقب نثار کے بھائی پر الزام

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے رکن محمود بشیر ورک نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ غیر فعال ہونے کی وجہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا بھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا بھائی کمیشن کے عوض مریضوں کو بھارت بھیجتا تھا۔

قائمہ کمیٹی نے کے پی ایل آئی اسپتال کے دورے اور پنجاب حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین مجاہد علی کی زیر صدارت ہوا۔

کمیٹی کے رکن رانا مبشر اقبال نے کہا کہ سابقہ دور حکومت میں گردے اور جگر کے امراض کا علاج کے لیے پنجاب میں ادارہ قائم کیا گیا۔ لیور اینڈ کڈنی سنٹر میں غریب اور نادار مریضوں کا علاج ہوتا تھا۔

”سابق چیف جسٹس نے یہ کہہ کر اس ادارے کو بند کروا دیا کہ وہاں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی تنخواہیں زیادہ ہیں۔“

کمیٹی کے رکن محمود بشیر ورک نے انکشاف کیا کہ کے پی ایل آئی ہسپتال غیر فعال ہونے کی وجہ سروسز اسپتال میں تعینات سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا بھائی تھا۔ ”سابق چیف جسٹس کا بھائی جگر کی پیوندکاری کے لئے مریضوں سے کمیشن لیتا تھا تھا۔ سروسز اسپتال میں آنے والے مریضوں سے کمیشن لے کر بھارت علاج کے لئے بھیجتا تھا۔“

محمود بشیر ورک نے بتایا کہ پی کے ایل آئی اسپتال کے بننے کے بعد ثاقب نثار کے بھائی کا کمیشن بننا بند ہوگیا تھا۔ سابق چیف جسٹس نے کے پی ایل آئی کے سربراہ کو گھر بلا کر اپنے بھائی کے سامنے اسے بےعزت کیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میرا بھائی ایک لاکھ جبکہ آپ دس لاکھ تنخواہ کیسے لیتے ہیں؟

محمود بشیر ورک نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ بہت ہوچکا خدا کے لیے اب بخش دیں۔

قائمہ کمیٹی نے کے پی ایل آئی اسپتال کے دورے اور پنجاب حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

کمیٹی کے چیئرمین نے ریمارکس دیئے کہ یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ کمیٹی میں اٹھنے والے سوالات اور تحفظات پر غور کیا جائے گا۔ کمیٹی کا ایک اجلاس بھی کے پی ایل آئی میں بلائیں گے اور معاملات کی تہہ تک جائیں گے۔

متعلقہ مضامین