مارچ کا رخ مارشل لا والوں کی طرف موڑ دیں گے

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی آزادی مارچ کی حمایت کر دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ فوج عدلیہ حکومت سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلائی جائے مولانا فضل الرحمن کو اس میں لے آؤں گا۔

مولانا فضل الرحمن نے محمود اچکزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اداروں سے لڑنا نہیں چاہتے، مارشل لا لگایا تو آزادی مارچ کا رخ ان کی طرف کر دیں گے۔ استعفے کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

محمود خان اچکزئی نے دھمکی دی کہ مارچ روکا تو بلوچستان حکومت جام کر دیں گے۔

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مسلم لیگ ن کے سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر اور عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید خان دستی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آزادی مارچ کی وجہ سے مارشل لا لگایا گیا تو مارچ کا رخ مارشل لا والوں کی طرف کردیں گے۔

مولانا سے پوچھا گیاحکومت نے مذاکرات کے لئے کمیٹی بنادی کیا مذکرات کریں گے، انہوں نے جواب دیا کہ پہلے وزیراعظم استعفا دیں پھر مذاکرات ہوں گے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا خطرناک ملکی صورتحال کاتقاضا ہے فوری طورپر عدلیہ فوج حکومت اپوزیشن کی گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ محمود اچکزئی نے دھمکی دی اگر مارچ کو روکا گیا تو جام کمال کی حکومت جام کردیں گے۔

مولانا سے وکلا کے مختلف وفود نے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اٹھارہ اکتوبر کو شہبازشریف سے ملیں گے جبکہ بیس اکتوبر کو بلاول سے ملاقات کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین