سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تین ڈرائیور ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے کو ملانے والے پل پر احتجاج کرنے والے ٹرک ڈرائیوروں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

سندھ کے وزیراعلی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرکے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ٹرک ڈرائیور موٹروے پر تنگ کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مارے جانے والے ڈرائیورز کا تعلق پشتون علاقوں سے ہے۔


خیال رہے کہ موٹروے کا انتظام فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے پاس ہے۔

پولیس کے مطابق کاٹھور پل پر ٹرانسپورٹرز احتجاج کررہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جبکہ بعض عینی شاہدین کے مطابق احتجاج میں شامل ڈرائیوروں نے موٹروے کے قریب موجود سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں ان کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

احتجاج کرنے والے ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے ان کی گاڑیاں کاٹھور پل پر روک کر موٹروے انتظامیہ نے بتایا کہ ان کی گاڑیاں گنجائش سے زائد وزن ہے۔

مقتولین کی شناخت نیاز علی، ایوب اور رسول خان کے نام سے ہوئی جن کا تعلق وزیرستان سے بتایا جا رہا ہے۔


واقعے کے خلاف ڈرائیوروں نے احتجاج شروع کردیا اور ٹرانسپورٹرز نے موٹر وے کے دونوں ٹریکس بند کیے۔ رات گئے ان کا کہنا تھا کہ انصاف ملنے تک میتوں کے ہمراہ احتجاج کریں گے۔

متعلقہ مضامین