کنٹرول لائن مارچ و دھرنا کیسے ختم ہوا؟

عابد ِخورشید ۔ صحافی

 جموں و کشمیر کی خود مختاری اور ماضی میں گوریلا جنگ لڑنے کی حامی جماعت جموں و کشمیر  لبریشن فرنٹ نے  ایل او سی عبور کرنے کی کال کئی ماہ پہلے دی رکھی تھی جبکہ ایک مرتبہ شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی اور آخرکار چکوٹھی کے مقام سے جنگ بندی لکیر عبور کرکے سرینگر پہنچنے کے لیے 4 اکتوبر کو مارچ شروع کیا جس میں بلاشبہ  تمام اضلاع سے لاکھوں آفراد نے حصہ کیا اور اس مارچ کو  پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے چکوٹھی سے پانچ کلومیٹر دور جسکول کے مقام پر  روک دیا تھا۔

مظاہرین کے مطالبات تھے کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی وحدت کو تقسیم کرنے،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدترین لاک ڈاون کے خلاف وہ ایل او سی    عبور کرنا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کی افواج کے زیر نگرانی استصواب رائے کرایا جایے۔

٘پاکستان کے زیرانتظام کشمیر حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا تھا کہ اگر مظاہرین مظاہرین آگے جاتے ہیں تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے اور حالات اس پار زیادہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے بھی اعلی سطحی  واضح عسکری  پیخام دیا گیا تھا کہ سیز فائر لائن کو عبور کرنے والوں کو  گولی مار دی جائے گی۔ایسا ہی پیغام اس طرف سے بھی مظفرآباد حکومت  دے دیا گیا تھا۔یاد رہے ماضی 1992 میں بھی اسی جماعت کے کئی کارکنان کو  ایل او سی عبور کرنے کی کوشش میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔

وزیراعظم فاروق حیدر کی جانب سے وزیراطلاعات مشتاق منہاس اور دیگر وزرا  پر مشتمل کمیٹی نے دھرنا ختم کرنے کیلے مذاکرات کے کئ دور کیے۔لبریشن فرنٹ نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کی دھرنے میں آنے اور مطالبات سننے کی شرط عائد کر دی۔

 تنظیم کے مطابق دوسری طرف دنیا بھر میں مقیم  نے اقوام متحدہ کے نیو یارک میں قائم دفتر میں کئ یاداشتیں بھیجیں اور مظفر آباد میں مظاہرین کی بات سننے کی ضرورت پر زور دیا اور اس طرح  اقوام متحدہ کے ساتھ لبریشن فرنٹ کے ساتھ ملاقات طے پائ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزرا کی کوششوں سے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی گئ کے وزیراعظم فاروق حیدر خود دھرنے میں جا کر خاتمے کی اپیل کریں گے۔لبریشن فرنٹ  کے وفد کے ساتھ ملاقات کا آخری دور وزیراعظم  فاروق حیدر کے ساتھ وزیراعظم ہاوس مظفر آباد میں ہوا۔ملاقات میں ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئ۔وفد کی تواضح جوس، ملائ بوٹی اور سینڈوچز سے کی گئ۔  جس کے بعد اقوام متحدہ کے دفتر جانے اور دھرنے میں شرکت پر  بات چیت ہوئ۔اسی دوران لبریشن فرنٹ کے پاکستانی کشمیر اور  گلگت بلتستان کے صدر توقیر گیلانی نے کہا دھرنے میں آپ کے ساتھ اور کون سے وزرا ہوں گے۔تو وزیراعظم  فاروق حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں ہوں گے،بے فکر رہیں۔میں اتنا پاگل تو نہیں ۔اس برجستہ جواب سے محفل گشت زعفران بن گئ۔ جے کے ایل ایف کے سینر لیڈر رفیق ڈار بولے کہ اچھا فیصلہ ہے۔موب کسی کے کنٹرول میں نہیں۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے ایک وزیر کی جانب سے دھرنا مظاہرین کے حوالے سے ایک ویڈیو کو سخت تنقید  کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بعد ازاں جے کے ایل ایف کے وفد نے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ بھارت و پاکستان کے حکام سے ملاقات کی اور ایک یاداشت پیش کی جس  کے مندرجارت کے مطابق ، ایل او سی پر فائرنگ اور باڑ کے خاتمے، دونوں ممالک کے افواج کی بیدخلی اور اقوام متحدہ کی افواج کے زیر  نگرانی اقوام متحدہ کی تیرہ اگست 1948 کی قراداد کے مطابق یعنی تھرڈ آپشن ،خود مختار کشمیر کیلے استصواب رائے کیلے چھ ماہ کا وقت دیا گیا ۔

بعد میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر مظفرآباد سے دھرنا ختم کرانے کے لیے جسکول پہنچے ۔اس موقع پر شرکا نے کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کے پر جوش نعرے لگائے۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے  خطاب میں  میں ہزاروں کے تعداد میں  موجود دھرنا کے شرکا سے دھرنا کے خاتمے کی اپیل کی اور کہا  کہ  ہم سب مل کر ایل او سی عبور کرنے کیلے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گے 

متعلقہ مضامین