لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی کو شکست

تحریر: عبدالجبارناصر

ذوالفقار علی بھٹو کے لاڑکانہ میں بھٹو کی وارث جماعت پیپلزپارٹی کو ایک بارپھر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔پیپلزپارٹی کی سندھ اسمبلی میں سنچری (100)مکمل کرنے کی خواہش پوری ہوسکی اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کی بھرپور مہم کام آئی ، سیاسی میدان میں پیپلزپارٹی کے لئے سخت دھچکہ ہے، پیپلزپارٹی کی شکست کے کئی اسباب ہیں۔

سندھ اسمبلی کا حلقہ پی ایس11 لاڑکانہ بنیادی طور لاڑکانہ شہر پر مشتمل حلقہ ہے ۔1970ء سے 2018ء لاڑکانہ پیپلزپارٹی کا ہی رہا ہے تاہم پی ایس 11 کے حلقہ دو بار پیپلزپارٹی ہار چکی تھی اور اب ضمنی انتخاب میں تیسری بار شکست ہوئی ہے۔ پہلی شکست 1993ء کے عام انتخابات میں ذوالفقارعلی بھٹو کے فرزندمیرمرتضیٰ بھٹو نے اور دوسری شکست 2018ء کے عام انتخابات میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہیدخان کے قریبی عزیر اور پیپلز پارٹی کے سابق رکن سندھ اسمبلی حاجی منور علی عباسی کے فرزند معظم علی عباسی نے لاڑکانہ عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ٹکٹ پردی اور اب ضمنی انتخاب میں تیسرباربھی لاڑکانہ عوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ٹکٹ پرمعظم علی عباسی نے پیپلز پارٹی کو شکست دی ہے۔

لاڑکانہ عوامی اتحاد 9 جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل،جمعیت علما ء اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف،سندھ یونائیٹڈپارٹی، شیعہ علما کونسل،پیپلز پارٹی ورکرز اورپیپلز پارٹی شہید بھٹو پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے بعد سب سے مضبوط ووٹ جمعیت علماء اسلام کا ہےاور 1970ء سے ہمیشہ جمعیت علماء اسلام ہی پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی شکست کا زمہ دار جمعیت علماء اسلام کو ہی ٹھراتی ہے۔

اس نشست پر پیپلزپارٹی کے بنیادی بدترین شکست دوچار ہونے کے کئی اسباب ہیں ۔ پہلا سبب کمزور اور غیر متحرک امیدوار کو میدان میں اتارناہے۔ ڈاکٹر جمیل سومرو پیپلزپارٹی کے ایک اچھے سیاسی کارکن ضرور ہیں مگر لاڑکانہ کی سیاست میں ان کا کردار کافی کمزور اور بعض کے نزدیک متنازع ہے ۔ دوسرا سبب پیپلزپارٹی کی حد سے زیادہ خود اعتمادی ہے ، غالباً اسی خود اعتمادی کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے آصفہ بھٹو زرداری اور صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو کو میدان میں اتار نے کی بجائے ڈاکٹر جمیل سومرو کو ٹکٹ دیا اور اسی خود اعتمادی کی وجہ سے الیکشن کے آخری دنوں تک دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ تک نہیں کیا۔

سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کہنا ہے کہ ہم نے جمعیت علماء اسلام سے رابطہ کی تھا،ا مگر جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ ہم سے آخری دنوں تک رابطہ نہیں کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی شکست کا تیسرا سبب غلط حکمت عملی ہے ۔ چوتھا سبب لاڑکانہ کی خراب صورتحال اور پانچواں سبب مخالفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا ہے۔

سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 میں شکست کے بعد پیپلزپارٹی کا اپنے گڑھ لاکاڑنہ کو مکمل فتح کرنے کی خواہش اور سندھ اسمبلی کے 168 رکنی ایوان میں سنچری (100)مکمل کرنے خواب کاشرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔جس کے لئے پیپلزپارٹی نے بہت کوشش کی اور پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کوشش کی مگر ان کی یہ محنت بھی کام نہ آسکی ۔

عام انتخابات 2018ء میں معظم علی عباسی32ہزار 178ووٹ لیکر 10ہزار 367 ووٹ کی لیڈ سے جیت گئے اور پیپلزپارٹی کی ندا کھوڑو (نثار کھوڑو کی بیٹی)21ہزار811ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ۔17 اکتوبر 2019 کے ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن کے غیر حتمی اور فارم 47 کے نتائج کے مطابق گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے معظم علی عباسی 31 ہزار 535 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے امیدوار ڈاکٹر جمیل احمد سومرو 26 ہزار 11 ووٹ لیکر دوسری نمبر پر رہے۔

مجموعی طورپر ایک لاکھ 52 ہزار 614 ووٹرز میں سے 60ہزار161 ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا،جن میں 35 ہزار 721 مرد اور 24 ہزار 440 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ڈالے گئے ووٹوں میں سے1478 ووٹ مسترد ہوئے اور 58 ہزار 682 ووٹ درست پائے گئے، مجموعی ووٹ کاسٹنگ کی شرح 39.42 رہی۔حلقے میں باقی 9 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئی ہے۔

ضمنی انتخابات میں اگر چہ ہار جیت کا فرق کم ہے اور پیپلزپارٹی کے ووٹ میں تقریباً 5ہزار کا اضافہ بھی ہوا ہے مگر یہ اضافہ بھی پیپلزپارٹی کو شکست سے نہیں بچاسکا ہے اور اپنے ہی گڑھ میں پیپلز پارٹی کی بدترین شکست موجودہ سیاسی ماحول میں مشکلات کا باعث بنے گی اور پیپلزپارٹی کی یہ شکست جمعیت علماء اسلام اور پیپلزپارٹی میں دوریوں باعث بن اور جمعیت علماء اسلام کے آزادی مارچ میں بطور پروپیگنڈا استعمال ہوسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین