مولانا کو منا لیں گے، حکومت

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے حکومت مخالف مارچ کی تاریخ نزدیک آتے ہی تحریک انصاف کے وزرا سرگرم ہو گئے ہیں اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہےکہ اپوزیشن سے بیک ڈور رابطہ شروع کردیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حصہ بننے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے تاہم وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے اس پر بات نہیں ہو سکتی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ”جمہوری ملک ہے مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرکے ہی حل نکالیں گے۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”میں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں، اگر ان کے جائز مطالبات ہیں تو حکومت ان کی بات سنے گی، لیکن ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔“

پرویز خٹک نے مزید کہا کہ کورکمیٹی نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے بات کرنے کی ذمہ داری دی ہے، مذاکراتی کمیٹی بنانے کا مقصد احتجاج کرنے والوں کا ایجنڈا معلوم کرنا ہے، کمیٹی کے ارکان کا فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔

پرویز خٹک نے کہا ہماری کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے۔ ”ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پٹھان جرگے والے لوگ ہیں، پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔“

متعلقہ مضامین