ثابت قدم نوازشریف جیت گیا!

تحریر: عبدالجبارناصر

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے علاج میں مبینہ دانستہ حکومتی اور نیب کی غفلت کے حوالے سے ن لیگ کے مختلف رہنماء اور نوازشریف کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ’’زہر دینے‘‘ سمیت مختلف دعوے کر رہے ہیں اور اب تو یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ نوازشریف کی صحت کئی روز سے انتہائی خراب تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کے مطابق حکومت، نیب اور عدالت کو بار بار آگاہ کیا گیا کہ صحت خراب ہے ، علاج کے لئے ہی ضمانت دیں مگر ضمانت نہیں دی گئی اور آج حالت تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان نے بھی حکومتی رویہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔

نوازشریف کی زندگی کے حوالے سے حکمرانوں اور نیب پر الزامات سنگین ہیں۔ ن لیگیوں اور نواز شریف کے بیٹوں کے مطابق بار بار بتانے کے باوجود نوازشریف کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کی صحت انتہائی تشویشناک حدتک خراب ہوئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکومتی غفلت یا دشمنی کی وجہ سے سابق وزیراعظم خوفناک مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔

ان سطور کے تحریر کے وقت ملنے والی اطلاعات بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ نواز شریف کی صحت نہایت خراب ہونے کے بعد حکومت ان کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجنے کے لئے کوشاں ہے مگر نواز شریف نے انکار کردیا ہے۔ والد کی خراب صحت کو دیکھنے کے بعد مریم نواز شریف کی صحت بھی خراب ہوگئی ہے اور انہیں بھی رات گئے ہسپتال میں داخل کر کے صبح ڈسچارج کیا گیا۔

سیلیکٹڈ حکمرانوں ، نیب اور عدالت کا رویہ تین بار اس ملک کے وزیراعظم، تین بار وزیراعلی پنجاب ، ایک بار قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور صوبائی وزیر پنجاب رہنے والے شخص، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور کروڑوں افراد کے رہنماء کے ساتھ افسوسناک اور شرمناک رہا ، بلکہ حکومت اور نیب کا رویہ عملاً سابق وزیر اعظم کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے مصداق رہا ہے۔سابق وزیر اعظم #ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں تھے تو مبینہ وزیر اعظم ، ان کے وزراء اور #چیئرمیننیب جاوید اقبال صورتحال سے با خبر ہونے کے باوجود تضحیک کر رہے تھے۔ عمران خان اور ’’سرتا پا سرکار‘‘ جاویداقبال کی 23اکتوبر 2019ء کی تقریر یا بیان سنیں تو سب سمجھ آئے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ مریض کے خون کے سفید خلیے ایک لاکھ 40 ہزار سے نیچے اور صرف 2 ہزار تک کیسے پہنچ گئے؟
نواز شریف کے ذاتی معالج کے بار بار انتباہ کے باوجود علاج کی سہولت فراہم کیوں نہیں کی گئی؟
ذاتی معالج کی ٹیسٹ رپورٹ میں خطرناک صورتحال سے آگاہ کرنے کے باوجود وقت ٹالنے کی کوشش کیوں کی گئی؟
ہدایت دینے والا کون تھا؟ علاج میں رکاوٹ کون بن رہا تھا؟
کیا سابق وزیر اعظم کو دانستہ مارنے کی کوشش تھی ؟
اگر یہ مارنے کی کوشش تھی تو اس کا محرک کون ہے؟
اگر غفلت ہے کون ذمہ دار ہے؟ وفاقی حکومت، صوبائی یا نیب؟
وزیراعظم عمران خان ، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار یا نیب چئیرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال یا کوئی اور ؟
کیا عوامی بالادستی کی بات کرنا اتنا بڑا جرم کہ زندگی بھی برداشت نہیں ؟

شدید علیل والد سے بیٹی ملنے کی دہائی دیتی رہی، عدالت میں آنسوں بہاتی رہی (عدالت میں مریم نواز کی تصویر) مگر #لمنصفوں نے ان کی آواز نہیں سنی اور درخواست مسترد کردی ۔
مریم نواز کو اس وقت پیرول پر ہسپتال پہنچایا گیا ،جب ان کے والد کی حالت انتہائی خراب ہوئی۔
اب حکمرانوں ، نیب اور عدلیہ کا میں نہیں میں نہیں کا راگ نہیں چلے گا۔ اب قوم کو جواب دینا ہوگا۔
آج نواز شریف جیت گیا، وہ سچا ثابت ہوا ، ثابت قدم رہا۔
دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے صحت کامل عطا فرمائے۔

متعلقہ مضامین