نواز شریف سے ایک بار ملوں گا

مدثر حسن ایڈووکیٹ

پانامہ سکینڈل اپنے آخری دموں پر تھا سہیل وڑائچ نواز شریف سے ملاقات کرنے گئے اور واپسی پر ایک کالم لکھ مارا جس کا لب لباب یہ تھا کہ نواز شریف کسی معجزے کے انتظار میں ہیں جبکہ پارٹی از اوور۔

مجھے سہیل وڑائچ کے تجزیے پر شک نہیں تھا مگر مجھے یہ یقین تھا کہ سیاست نام ہی معجزوں کا ہے۔ جس طریقے سے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا کیا وہ ایک معجزہ نہ تھا کہ عقل عاجز آ گئی مگر آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میاں نواز شریف کا اصل جرم کیا تھا۔

چھوڑیے جناب ۔ سارے تجزیے اور انٹرنیشنل میڈیا بتا رہا تھا کہ مسلم لیگ ن اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے پانچ سال پھر سے حکومت کرے گی مگر اچانک یہ ہوا کہ عمران خان وزیر اعظم "بنوا” دیے گئے۔

اس سے بڑا معجزہ کیا ہو سکتا تھا کہ آج ہوا نے تھوڑا سا رخ بدلا اور کل شام تک پورے پاکستان میں لوگوں کو پتا چل چکا تھا کہ میاں نواز شریف کی ضمانت ہونے جا رہی ہے۔

سہیل وڑائچ سے مجھے ایسے بے تکے جملے کی توقع نہ تھی۔ کیا عجب کہ کل معجزہ یہ ہو کہ عمران خان اڈیالہ کے کسی تاریک اور بد بودار کمرے میں اپنے پچھلے گناہوں پر ملال کرتا نظر آئے۔

سہیل وڑائچ کچا کھلاڑی تھا اس لیے عقل سے ماورا باتوں پر اس کا یقین نہیں۔ عقل تماشے دیکھ کر یقین کرتی ہے مگر معجزے اسے عاجز کر دیتے ہیں۔ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ بھی کوئی معجزہ کر سکتی ہے۔ اس لیے خاموشی بہتر۔

نواز شریف جب رہائی پا کر واپس آئیں گے تو میری حسرت ہے کہ ایک بار ان سے ملوں۔ ان سے پوچھوں کہ اتنا صبر کہاں سے خریدا ہے۔ اتنی زیادتیوں پر خاموش رہنے کی طاقت کہاں سے لائے۔ ظلم اور جبر کے سامنے اف تک نہ کرنے کا حوصلہ کیسے پیدا کیا۔ میں وکیل ہوں اور سمجھ سکتا ہوں کہ فوجداری مقدمے کس طرح انسانوں کو توڑ دیتے ہیں۔ قیدی چند دنوں میں کس طرح موم پڑ جاتا ہے اور اپنی آزادی کسی بھی قیمت پر واپس لینے کے لیے کیا کیا جتن کرتا ہے۔

میں پوچھوں گا نواز شریف سے کہ کیسے اس کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ میں سوال کروں گا نواز شریف سے کہ وہ لمحے کیسے گزرے جب انہوں نے احسان فراموش ووٹرز کے بارے میں سوچا جو ووٹ تو بڑی محبت سے دیتے ہیں مگر بازی پلٹتے ہی آنکھیں موڑ لیتے ہیں۔ میں میاں نواز شریف سے پوچھوں گا کہ وہ اپنی وفا شعار بیوی کو یاد کر کے کتنی بار روئے۔ اپنی بیٹی کو جھوٹے کیسوں میں جیل بھیجنے والوں پر طیش میں کیوں نہ آئے۔ اپنی بوڑھی اور معزور ماں کو یاد کر کے کتنی بار حسرت سے آسماں کی طرف دیکھا۔ اپنے اللہ سے کتنے شکوے کیے۔۔ یہ سب سوال اس نواز شریف سے پوچھوں گا جسے اللہ نے اس ملک پر تین دفعہ حق حکمرانی دیا اور وہ ہمیشہ کسی سازش کا ۔۔کسی کی انا کا شکار ہوا ۔

میں پوچھوں گا نواز شریف سے کہ اب اگر کبھی مسند اقتدار پر آئے تو ان کھوٹے سکوں کو وہی مقام مرتبہ دیں گے جو پچھلے دو سال سے کبھی اس اوٹ چھپتے ہیں اور کبھی اس اوٹ چلے جاتے ہیں۔ میں یہ سوال کروں گا کہ احسن اقبال ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور ایسے ہی چند نام کیا آپ کی قربانی کا وزن سنبھال سکتے ہیں۔ کیا یہ ضروری نہ ہو گا کہ اب نئی صرف وہی لوگ آپ کے ساتھ ہوں جو آپ کو عدالتی پیشیوں پر دیکھ کر چپکے سے رو دیتے تھے۔ جو آپ سے خاموش محبت کرتے رہے۔ جو آپ کے لیے دعائیں کرتے تھے۔

میں یہ سب سوال نواز شریف سے پوچھوں گا اور میاں صاحب سے بحث کروں گا کہ اس قوم میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ آپ کو جیلوں میں دیکھتی رہے۔ یہ قوم آپ کو کئی بار وزیر اعظم بنا دے گی مگر اس بار آپ نے رشتہ صرف ان لوگوں سے رکھنا ہے جو آپ کے نظریے پر جمے رہے۔ جنہوں نے سول بالا دستی کا خواب آپ کے ساتھ جیل کی دیوار کے اس پار دیکھا۔ آپ جیل سے باہر آئیں گے تو میں آپ کو ہر جگہ ملوں گا۔ ہر گلی کوچے میں چلتا پھرتا شہری بنا آپ سے ملوں گا اور آپ کی طرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھوں کہ اب مجھ سے دوستی کر لینا۔ میں آپ کو اب کبھی اکیلا جیل نہیں جانے دوں گا۔ میں عوام ہوں۔

متعلقہ مضامین