مولانا کے پاس کتنے آپشنز؟

پاکستان میں سیاست اور سٹیبلشمنٹ کی حرکیات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کو دعوی ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آگے بڑھنے اور دھرنے سے پیچھے ہٹنے کے فیصلے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے پاس آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے جمعے کو اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو اتوار کی شام تک مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیا تھا بصورت دیگر آگے بڑھنے کی دھمکی دی تھی۔


وزیراعظم کے استعفے اور ڈی چوک جانے کی ڈیڈ لائن آج شام ختم ہورہی ہے جس کے بعد کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں پارٹی اجلاس جاری ہے۔

اجلاس میں مرکزی شوری ارکان اور صوبوں کے امیر شریک ہیں۔

حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت کی جارہی ہے کہ پلان بی کیا ہونا چاہیے۔


اجلاس میں پی پی اور مسلم لیگ ن کی طرف سے ڈی چوک جانے کی مخالفت کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جارہا ہے۔


اجلاس رہبر کمیٹی کی طرف سے احتجاج کو ملک گیر پھیلانے شٹر ڈاون سڑکیں بند کرنے کی تجاویز پر غور کرنےپر غور کیا جائے گا۔

اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں مولانا فضل الرحمن آج پنڈال میں اہم اعلان کریں گے۔

متعلقہ مضامین