آزادی مارچ کل جماعتی کانفرنس کے حوالے

پاکستان میں حکومت مخالف مارچ کرنے والی پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہیں اور وہ اگلے اقدامات کا فیصلہ ان کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد کریں گے اور اس کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلائی ہے۔

اتوار کی رات اسلام آباد میں ’آزادی مارچ‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم سب پارٹی سربراہان کے ساتھ رابطے میں ہیں، میں کوشش کر رہا ہوں کہ ان سب کے ساتھ کل ملاقات ہو سکے، اس کے بعد ہم آگے کے فیصلے کریں گے۔‘

ادھر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا ہے۔

اپنے خطاب میں مولانا نے کہا کہ ’وعدہ کرتا ہوں کہ ہم پیچھے کی طرف نہیں جائیں گے، آگے کی طرف ہی جائیں گے۔ یہ تو پلان اے ہے۔ اس کے ساتھ پلان بی بھی ہے اور پلان سی بھی۔‘ 

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ’حکمرانوں کو جانا ہوگا اور عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا۔ ہم یہاں سے جائیں گے تو کسی پیش رفت سے جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کہتے ہیں کہ تم شکایات لے کر الیکشن کمیشن میں جاؤ لیکن الیکشن کمیشن تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے، اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو آج اتنی بڑے تعداد لوگ اسلام آباد میں اکھٹے نہ ہوتے۔“

اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے اتوار کی شام تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

متعلقہ مضامین