جسٹس فائز عیسی کیس میں کیا ہوا؟

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں تشویش ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شواہد کس قانون کے تحت اکھٹے کیے گئے؟ کس ایجنسی نے شواہد اکھٹے کیے؟ کیا کوئی بھی شخص اٹھ کر کسی جج کے بارے میں خفیہ تحقیقات کرسکتا ہے؟ جج کا وقار ہوتا ہے، کیا ایگزیکٹو کو طے شدہ قانون سے ہٹ کر کسی دوسرے فورم سے انکوائری کروانے کا اختیار حاصل ہے؟

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے دلائل میں کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف شکایات سننے والی جوڈیشل کونسل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، کونسل نے صدارتی ریفرنس پر شو کاز نوٹس ماورائے قانون جاری کیا گیا، کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ: ج ع

فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں افتخار چوہدری کیخلاف بنائے گئے ریفرنس اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کی نوعیت ایک جیسی ہے ۔ یہ بات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ بنچ کے سامنے کہی۔

صدر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس بھیج رکھا ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیارپر دلائل دیتے ہوئے کہا سپریم جوڈیشل کونسل کو کورٹ آف لاءکا درجہ حاصل نہیں ہے، کونسل صدارتی ریفرنس کو ختم نہیں کر سکتی،افتخار محمد چوہدری کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت ریفرنس کھلی عدالت میں چیلنج کر سکتا ہے۔جسٹس منیب اختر نے آرٹیکل 184کی شق تین کا استعمال اُس وقت کیا جاتا ہے جب مفاد عامہ، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، انصاف کے حصول میں ناکامی ہو ۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ جوڈیشل کونسل ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، کیا کونسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زیر کفالت ہونے کا تعین کرے؟۔ وکیل صفائی نے کہا کونسل کو یہ اختیار حاصل نہیں۔

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے دلائل میں مزید کہا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کیخلاف شکایات سننے والی جوڈیشل کونسل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا،صدارتی ریفرنس پر شو کاز نوٹس ماوراءقانون جاری کیا گیا،کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف تعصب کا مظاہرہ کیا۔ منیر اے ملک نے چوہدری ظہور الٰہی بنام ذوالفقار علی بھٹو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے غیر آئینی اقدام پر استثنیٰ نہیں ہے،سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کیس میں کہا قانون سے کوئی ماوراءنہیں ہے،سپریم کورٹ نے کہا غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام پہ استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔جسٹس منیب اختر نے کہا افتخار محمد چوہدری کیس میں براہ راست صدر پر الزام لگایا گیا،افتخار محمد چوہدری کیس میں ججوں اور انکے اہل خانہ کو نظر بند کیا گیا،افتخار محمد چوہدری کیس میں بدنیتی عیاں تھی، آپ نے اپنی درخواست میں جاسوسی جیسے دیگر عمومی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں،مشرف پہ سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے، اس مقدمے میں ایسا نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا قانون یا حقائق میں بدنیتی برتنے پر صدر ،وزیر اعظم اور وفاقی وزیر قانون کو فریق بنایا جاسکتا ہے،اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو افتخارچوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنسز ایک جیسے ہیں ،دونوں مقدمات میں طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے لیکن نوعیت ایک جیسی ہی ہے۔ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے مزید کہا صدر نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرکے غیر آئینی کام کیا،صدر مملکت نے خود سے زہن استعمال کرکے فیصلہ نہیں کیا، آرٹیکل 209 وہ واحد آرٹیکل ہے جس پر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر کی ہدایت پر شواہد اکھٹے نہیںکیے گئے نہ ہی انکوائری ہوئی،شواہد کس قانون کے تحت اکھٹے کیے گئے،مشکوک انداز سے شواہد اکھٹے کیے گئے،کیا کوئی بھی شخص اٹھ کر کسی جج کیخلاف شواہد اکھٹے کر سکتا ہے،جج کی عزت ہوتی ہے،سوال یہ ہے کہ کون سی ایجنسی نے شواہد اکھٹے کیے گئے۔اس سوال پر ایڈووکیٹ منیر اے ملک کی بجائے جسٹس عمر عطاءبندیال بولے یہ سوالات ایسٹ ریکوری یونٹ سے متعلق ہیں، ایسٹ ریکوری یونٹ 2018 کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں بنا، ایسٹ ریکوری یونٹ کے چارٹر میں چیزیں واضح ہیں۔ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے کہا کونسل صدر کے کنڈکٹ کا جائزہ نہیں لے سکتی۔جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کیا ایگزیکٹو کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون میں طے کردہ فورم سے ہٹ کر جج کیخلاف کسی اور فورم سے انکوائری کروائے ۔عدالت نے کیس کی سماعت منگل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین